المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
485. دعا النبى أبو عبس بن جبر لطعام صنعه
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا ابو عبس بن جبر رضی اللہ عنہ کے تیار کردہ کھانے پر تشریف لے جانا
حدیث نمبر: 5588
حَدَّثَنَا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله الحَضْرمي، حَدَّثَنَا أبو كُريب، حَدَّثَنَا زيد بن الحُبَاب، حَدَّثَنَا عبد الحميد بن أبي عَبْسٍ الأنصاري [أخبرني ميمون بن زيد بن أبي عَبْس] (4) أخبرني أبي: أنَّ أبا عَبْس كان يُصلِّي مع رسول الله ﷺ الصلَواتِ ثم يَرجِعُ إلى بني حارثة، فخرج ذات ليلةٍ مُظلِمةٍ مَطِيرةٍ، فنُوِّر له في عَصَاهُ حتَّى دَخَلَ دارَ بني حارثة (5) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5495 - مرسل
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5495 - مرسل
عبدالحمید بن ابی عبس جو کہ سیدنا ابوعبس رضی اللہ عنہ کی اولاد امجاد میں سے ہیں فرماتے ہیں: سیدنا ابوعبس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ پانچوں نمازیں پڑھا کرتے تھے، نمازوں سے فارغ ہو کر یہ بنی حارثہ کی جانب چلے جایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ تاریک رات میں جب یہ نکلے تو ان کے عصا میں روشنی پیدا کر دی گئی تھی، آپ اسی کی روشنی میں بنی حارثہ کی حویلی میں داخل ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5588]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5588 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(4) ما بين معقوفين سقط من نسخنا الخطية، واستدركناه من رواية أبي بكر البيهقي في "دلائل النبوة" 6/ 78 عن أبي عبد الله الحاكم، بإسناده هذا.
🔍 فنی نکتہ / علّت: بریکٹ [ ] کے درمیان والی عبارت قلمی نسخوں سے گر گئی ہے، جسے ہم نے ابوبکر البیہقی کی "دلائل النبوة" (6/ 78) میں الحاکم کی اسی سند سے منقول روایت کے ذریعے مکمل کیا ہے۔
(5) إسناده ضعيف، ميمون بن زيد بن أبي عبس مجهولٌ، وعبد الحميد - والمشهور في اسمه عبد المجيد - ليَّنَه أبو حاتم الرازي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: میمون بن زید بن ابی عبس "مجہول" راوی ہیں، اور عبد الحمید (جن کا مشہور نام عبد المجید ہے) کو امام ابو حاتم الرازی نے "لین" (کمزور) قرار دیا ہے۔
وانظر في قصة إضاءة العصا لغيره من الصحابة فيما سلف برقم (5343).
📖 حوالہ / مصدر: دیگر صحابہ کے لیے لاٹھی کے روشن ہونے (معجزہ) کا قصہ پیچھے رقم (5343) پر گزر چکا ہے۔