المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
491. عبادة بن الصامت: بدري، أحدي، شجري، عقبي، نقيب
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بدری، اُحدی، شجری، عقبی اور نقیب تھے
حدیث نمبر: 5608
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجبار، حَدَّثَنَا يُونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق في تسمية السبعين الذين شهِدُوا العَقَبة، قال: ومن بني سالم بن عوف بن عمرو بن عوف بن الخَزْرج: عُبادةُ بنُ الصامت بن قيس بن أصْرَمَ بن فِهْر (1) بن ثَعلبةَ بن غَنْم بن سالم، نَقيبٌ، شهد بدرًا والمشاهدَ كلَّها مع رسول الله ﷺ (2) .
ابن اسحاق، بیعت عقبہ میں شامل ہونے والے ستر صحابہ کرام میں ان کا نام لکھتے ہوئے فرماتے ہیں: بنی سالم بن عوف بن عمرو بن عوف بن خزرج میں سے ” سیدنا عبادہ بن صامت بن قیس بن اصرم بن بہز بن ثعلبہ بن غنم بن سالم “ ہیں۔ یہ خطیب بھی تھے، جنگ بدر سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5608]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5608 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى: بهز، بالباء أوله والزاي في آخره، والمثبت على الصواب من سائر الروايات عن ابن إسحاق، وهو كذلك في كتب الأنساب.
📝 نوٹ / توضیح: ہمارے پاس موجود قلمی نسخوں میں یہ لفظ "بهز" (شروع میں با اور آخر میں زا کے ساتھ) ہو گیا ہے، مگر درست وہی ہے جو ابن اسحاق کی دیگر روایات اور کتبِ انساب میں ثابت ہے۔
(2) وهو عند ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 26/ 187 من طريق رضوان بن أحمد، عن أحمد بن عبد الجبار، به.
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت ابن عساکر کی "تاريخ دمشق" (26/ 187) میں رضوان بن احمد عن احمد بن عبد الجبار کی سند سے موجود ہے۔
وهو عند ابن هشام في "السيرة النبوية" 1/ 464، وهي من روايته عن زياد البكائي عن ابن إسحاق. وعند ابن عساكر 26/ 190 من طريق يحيى بن سعيد الأموي عن ابن إسحاق.
📖 حوالہ / مصدر: یہ ابن ہشام کی "السيرة النبوية" (1/ 464) میں زیاد البکائی عن ابن اسحاق کی روایت سے ہے، اور ابن عساکر (26/ 190) میں یحییٰ بن سعید الاموی عن ابن اسحاق کے طریق سے ہے۔