المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
491. عبادة بن الصامت: بدري، أحدي، شجري، عقبي، نقيب
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بدری، اُحدی، شجری، عقبی اور نقیب تھے
حدیث نمبر: 5620
حدثني أبو عبد الله محمد بن العباس الشَّهيد ﵀، حَدَّثَنَا أحمد بن علي بن رَزِين، حَدَّثَنَا محمد بن عَمْرَوَيهِ، حَدَّثَنَا الهيثم بن عَدِيّ، قال: تُوفي عبادة بن الصامِت ببيت المَقدِس، ودُفن بها سنة أربع وثلاثين، وهو ابن اثنتين وسبعين سنة (2) .
ہیثم بن عدی فرماتے ہیں: سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا انتقال بیت المقدس میں ہوا، وہیں پر ان کی تدفین ہوئی وفات کے وقت ان کی عمر 72 سال تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5620]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5620 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) وكذلك نقله ابن زَبْر الرَّبعي في "مولد العلماء ووفياتهم" 1/ 123 سنة وفاة عبادة عن جماعة الرواة الذين نقل عنهم وسماهم وسمَّى أسانيده إليهم في فاتحة كتابه هذا، حيث صدَّر ذلك بقوله: قالوا: ومات عبادة بن الصامت بالشام سنة أربع وثلاثين. ومن جملة من يروي عنهم ابن زَيْر هو الهيثم بن عدي.
📖 حوالہ / مصدر: ابن زبر الربعی نے "مولد العلماء ووفياتهم" (1/ 123) میں حضرت عبادہ کا سالِ وفات 34 ہجری نقل کیا ہے، اور وہ ان راویوں میں سے ہیں جن سے ابن زبر ہیثم بن عدی کے واسطے سے روایت کرتے ہیں۔
وقد روي عن الهيثم بن عدي خلافُ ذلك، وذلك فيما نقله عنه ابن سعد كما في "تاريخ دمشق" 26/ 184 قال: أخبرني الهيثم بن عدي قال: توفي عبادة في خلافة معاوية بالشام، وأورده ابن سعد في "الطبقات" 3/ 506 دون أن يصرِّح باسم الهيثم، وكذلك رواه ابن عساكر 26/ 207 و 208 من طريقين أخريين عن الهيثم أنه قال: مات عبادة في خلافة معاوية سنة خمس وأربعين. قلنا: وهذا أثبتُ - والله أعلم - للخبر المتقدم، برقم (5616) الذي فيه ما يفيد أنه أدرك عهد معاوية.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ہیثم بن عدی سے اس کے خلاف بھی مروی ہے؛ ابن سعد (الطبقات 3/ 506) اور ابن عساکر (26/ 207-208) کے مطابق ہیثم نے کہا کہ حضرت عبادہ کی وفات دورِ معاویہ میں 45 ہجری میں ہوئی۔ 📌 اہم نکتہ: یہ دوسری بات زیادہ ثابت معلوم ہوتی ہے کیونکہ سابقہ حدیث نمبر (5616) سے بھی یہی اشارہ ملتا ہے کہ انہوں نے حضرت معاویہ کا دور پایا تھا۔