المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
507. مدح عثمان رضى الله عنه للزبير
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی تعریف
حدیث نمبر: 5659
أخبرنا أحمد بن كامل القاضي، حَدَّثَنَا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حَدَّثَنَا زكريا بن عدي، حَدَّثَنَا علي بن مُسهِر، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن مروان، قال: أصابَ عُثمانَ رُعَافٌ سنةَ الرُّعَافِ، حتَّى أَوصى وتَخلَّف عن الحجِّ، فدخل علينا رجلٌ من قُرِيش، فقال: استَخْلِفْ، فقال: وقالوه؟ قال: نعم، قال: ومَن هو؟ فسَكَت، ثم دخلَ عليه آخَرُ، فقال: استَخلِفْ، فذكر نحوًا ممّا ذكَر الأولُ، فقال عثمانُ: الزَّبيرَ؟ قال: نعم، فقال عثمانُ: أما والذي نفسِي بيده إن كان لأخْيَرَهم ما علِمتُ وأحبَّهُم إلى رسول الله ﷺ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5560 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5560 - على شرط البخاري ومسلم
مروان کہتے ہیں: جس سال نکسیر کی وباء پھیلی اس سال سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بھی نکسیر آئی، اس کی وجہ سے آپ کی حالت غیر ہو گئی حتی کہ آپ نے وصیت بھی کر دی اور آپ اس سال حج پر بھی نہ جا سکتے تھے، ہمارے پاس ایک قریشی شخص آیا اور اس نے بتایا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اس سال حج پر نہیں گئے، اس نے پوچھا: کیا لوگوں میں یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے پوچھا: کس نے بات کی ہے؟ اس بات پر وہ خاموش ہو گئے، پھر ایک اور آدمی ان کے پاس آیا، اس نے بھی پہلے آدمی کی طرح خبر دی، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: کیا زبیر نے یہ باتیں کی ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ اس پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، میری معلومات کے مطابق یہ شخص سب سے افضل ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ اسی سے پیار کرتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5659]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5659 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. عروة: هو ابن الزبير بن العوّام، ومروان هو ابن الحكم بن أبي العاص.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: عروہ سے مراد "ابن زبیر بن عوام" ہیں اور مروان سے مراد "ابن الحکم بن ابی العاص" ہیں۔
وأخرجه أحمد 1/ (455) عن زكريا بن عدي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد 1/ (455) نے زکریا بن عدی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه البخاري (3717) عن خالد بن مخلد، عن علي بن مُسهر، به. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری (3717) نے خالد بن مخلد سے، انہوں نے علی بن مسہر سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: پس حاکم کا اسے (مستدرک میں) لانا ان کا ذہول (بھول/چوک) ہے۔ (کیونکہ یہ بخاری میں موجود ہے)۔
وأخرجه مختصرًا البخاري (3718) من طريق أبي أسامة حماد بن أسامة، عن هشام بن عروة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مختصراً بخاری (3718) نے ابو اسامہ حماد بن اسامہ کے طریق سے، انہوں نے ہشام بن عروہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔