🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
607. حباب بن المنذر كان من ذوي الر أى
سیدنا حباب بن منذر رضی اللہ عنہ رائے اور تدبیر والے صحابی تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5920
حدثني أبو إسحاق المُزكِّي، حدثنا أبو العباس بن سعيد الحافظ، حدثنا يعقوب بن يوسف بن زياد الضَّبيِّ، حدثنا أبو حفص الأعشى، حدثنا بَسّام الصَّيْرَفي، عن أبي الطُّفيل الكِنَاني عن حُباب بن المنذر، قال: ونزل جبريلُ ﵇ على محمد ﷺ فقال: أيُّ الأمرين أحبُّ إليك: تكونُ في دُنياك مع أصحابِك، أو تَرِدُ على ربِّك فيما وَعَدَك من جناتِ النَّعِيم؛ من الحُورِ العِين والنَّعيم المُقِيم، وما اسْتَهَتْ نفسُك، وما قَرّت به عَينُك؟ فاستشارَ أصحابَه، فقالوا: يا رسول الله، تكون معنا أحبُّ إلينا، وتُخبِرُنا بعَوْراتِ عَدوّنِا، وتَدعُو الله لينصُرَنا عليهم، وتُخبِرُنا من خَبرِ السماء، فقال رسول الله ﷺ:"ما لكَ لا تَتكلّمُ يا حُبَابُ؟" فقلت: يا رسول الله، اختَرْ حيثُ اختارَ لك ربُّك، فقَبِل ذلك مِنّي (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5803 - حديث منكر وسنده
حباب بن منذر فرماتے ہیں: سیدنا جبریل امین علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی: آپ ان دو امور میں سے کس کو زیادہ پسند کرتے ہیں * اپنے ساتھیوں کے ہمراہ دنیا میں رہیں۔ * اپنے رب کی بارگاہ میں آ جائیں جہاں آپ کو وہ تمام نعمتیں میسر ہوں گی جن کا آپ سے وعدہ کیا گیا ہے، یعنی جنت اور اس کی نعمتیں، حورعین، ہمیشہ کی نعمتیں، اور ہر وہ چیز جس کو دل چاہے، اور وہ چیزیں جن سے تمہاری آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں اپنے اصحاب سے مشورہ کیا۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تو یہی زیادہ پسند ہے کہ آپ ہمارے درمیان رہیں، آپ دشمنوں کی خفیہ سازشوں کے بارے میں ہمیں بتا دیتے ہیں، فتح کے لئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہمارے لئے دعا کرتے ہیں، اور آپ ہمیں آسمان کی خبریں دیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سیدنا حباب رضی اللہ عنہ کی جانب دیکھ کر فرمایا) اے حباب! تمہیں کیا بات ہے، تم نے کوئی مشورہ نہیں دیا؟ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ وہی اختیار کریں جو آپ کے رب نے آپ کے لئے اختیار کیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے مشورے کو قبول کر لیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5920]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5920 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده واهٍ كما تقدَّم برقم (5918)، وأنكر الذهبي في "تلخيصه" هذا الحديثَ وإسنادَه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "واہی" (نہایت کمزور) ہے جیسا کہ نمبر (5918) پر گزرا۔ ذہبی نے "تلخیص" میں اس حدیث اور اس کی سند کا انکار کیا ہے (منکر قرار دیا ہے)۔