🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
623. ذكر مقتل مرحب بيد على بن أبى طالب
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں مرحب کے قتل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5955
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبّار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، حدثني أبو ليلى عبد الله بن سهل أحدُ بني حارثة، عن جابر بن عبد الله بن عمرو، قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن لِهذا الخَبِيثِ مَرحَبٍ؟" فقال محمد بن مَسلَمة: أنا يا رسول الله، فقال:"قُمْ إليه، اللهم أعِنْهُ" فقام محمد بن مَسلَمة. قال: جابرٌ: فواللهِ ما رأيت حَرْبًا بين رجُلَين شهدتُه مثلَها؛ لما دَنَا أحدُهما من صاحِبِهِ وَقَعَت بينهما شَجَرةٌ، فجعَل أحدُهما يَلُوذُ بها من صاحبِه، فإذا استَتَر منها بشيءٍ، وجَدَّ صاحِبُه ما يَلِيه منها حتى يَخلُصَ إليه، فما زالا يَتحَرّفانِه بأسيافِهما، فضربَ محمدُ بن مَسْلَمة سيفَه بالدَّرَقة، فوقع فيها سيفُه ولم يَقدِر مَرحَبٌ أَن يَنزِعَ سيفَه، فضربَه محمدٌ فقتَلَه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، على أنَّ الأخبارَ مُتواترةٌ بأسانيدَ كثيرةٍ أنَّ قاتلَ مَرحَبٍ أميرُ المؤمنين عليُّ بن أبي طالب ﵁، فمنها:
سیدنا جابر بن عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس مرحب خبیث کا قصہ کون تمام کرے گا؟ سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی طرف پیش قدمی کرو، یہ کہتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا دی اے اللہ! اس کی مدد فرما محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اس کی جانب بڑھے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: خدا کی قسم! میں نے ان دونوں جیسی لڑائی کبھی نہیں دیکھی، ان دونوں میں سے کوئی بھی جب دوسرے کے قریب آتا تو ان کے درمیان جھڑپ ہو جاتی، ایک، دوسرے پر حملہ کرتا اور دوسرا اس کے حملے سے اپنا بچاؤ کرتا، کافی دیر تک ان دونوں کی تلواریں آپس میں ٹکراتی رہیں اور چھنچھناہٹ کی آوازیں آتی رہیں، پھر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اس کی ڈھال پر ایک زور دار ضرب لگائی جو زرہ کو چیرتی ہوئی اس کے سر کو کاٹ گئی، مرحب اس سے اپنا بچاؤ نہ کر سکا اور محمد بن مسلمہ کے ہاتھوں واصل جہنم ہو گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور کثیر اسناد کے ہمراہ ایسی احادیث حد تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں جن میں یہ تصریح ہے کہ مرحب کو امیرالمومنین سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا۔ ان میں سے ایک حدیث درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5955]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5955 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق، لكن الأصحَّ أنَّ قاتل مرحب اليهودي يوم خيبر هو علي بن أبي طالب كما سيشير إليه المصنف بإثر هذا الخبر. وانظر التعليق عليه في "مسند أحمد" 23/ (15134) حيث خرَّجه من طريق إبراهيم بن سعد الزهري، عن ابن إسحاق، به.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند محمد بن اسحاق کی وجہ سے "حسن" ہے۔ 📌 اہم نکتہ: لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ خیبر کے دن یہودی مرحب کا قاتل علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے، جیسا کہ مصنف اس خبر کے فوراً بعد اشارہ کریں گے۔ اس پر "مسند احمد" (23/ 15134) کا حاشیہ دیکھیں جہاں انہوں نے اسے ابراہیم بن سعد الزہری کے طریق سے ابن اسحاق سے روایت کیا ہے۔
وانظر "فتح الباري" لابن حجر 12/ 407.
📖 حوالہ / مصدر: دیکھیں: ابن حجر کی "فتح الباری" (12/ 407)۔
والدَّرَقة: التُّرسُ الذي ليس فيه خَشَب ولا عَصَب، والعصب ما تُعمَل منه الأوتار.
📝 نوٹ / توضیح: "الدَّرَقة": وہ ڈھال جس میں لکڑی اور پٹھے (عصب) نہ ہوں۔ اور "عصب" وہ چیز ہے جس سے کمان کی تانت بنائی جاتی ہے۔
وقوله: يتحرّفانه، هكذا جاء في نسخنا الخطية، والظاهر أنها بمعنى يقف كل واحدٍ منهما على حَرْفٍ - أي جهة - مما بقي من الشجرة بعد قطعهما أغصانَها، والله أعلم.
📝 نوٹ / توضیح: "یتحرّفانہ": ہمارے قلمی نسخوں میں ایسا ہی آیا ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ اس کا مطلب ہے کہ وہ دونوں (درخت کی) ہر طرف (کنارے) کھڑے ہوتے ہیں، یعنی درخت کی شاخیں کاٹنے کے بعد جو حصہ بچا اس کے اطراف میں۔ واللہ اعلم۔