🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
631. ذكر مناقب كعب بن مالك الأنصاري - رضى الله عنه -
سیدنا کعب بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5972
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان، حدثنا أبو أسامة، حدثنا هشام بن عُروة، عن أبيه، عن أسماء بنت أبي بكر، قالت: لقد رأيتُ زيدَ بن عمرو بن نُفَيل قائمًا مُسنِدًا ظَهرَه إلى الكعبة، يقول: يا معشرَ قُريش ما منكم اليومَ أحدٌ على دِينِ إبراهيمَ غيري، وكان يُحْيِي المَوءُودةَ، يقول للرجل إذا أراد أن يَقتُل ابنتَه: مَهْلًا لا تَقتُلْها، أنا أكفِيكَ مَؤُونتها، فيأخُذُها، فإذا تَرعْرَعَت قال لأبيها: إن شئتَ دَفَعتُها إليكَ، وإن شئتَ كَفَيتُك مؤونتَها (2) . صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه. ذكرُ مناقب كعب بن مالك الأنصاري ﵁
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے سیدنا زید بن عمرو بن نفیل کو دیکھا کہ وہ کعبۃ اللہ کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھے کہہ رہے تھے اے گروہ قریش! آج تمہارے اندر میرے سوا کوئی بھی دین ابراہیمی پر قائم نہیں ہے، آپ زندہ درگور کی گئی بچیوں کو بچانے کی کوشش کیا کرتے تھے، جب کوئی شخص اپنی نومولود بچی کو زندہ دفن کرنے کا ارادہ کرتا تو آپ فرماتے: تو اس کو قتل مت کر، اس لڑکی کے معاملہ میں، میں تیری معاونت کروں گا۔ پھر وہ اس لڑکی کو اپنی کفالت میں لے لیتے، جب وہ 7، 8 برس کی ہو جاتی تو آپ اس کے باپ کو کہتے: اگر تم چاہو تو میں اس کو تمہارے سپرد کر دیتا ہوں، نہیں تو میں اس کی ذمہ داری جاری رکھتا ہوں ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5972]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5972 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح أبو أسامة: هو حماد بن أسامة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ ابو اسامہ سے مراد حماد بن اسامہ ہیں۔
وأخرجه النسائي (8131) عن الحسين بن منصور بن جعفر، عن أبي أسامة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (8131) نے حسین بن منصور بن جعفر سے، انہوں نے ابو اسامہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه البخاري في "صحيحه" (3828) معلَّقًا بصيغة الجزم عن الليث بن سعد، عن هشام بن عروة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری نے اپنی "صحیح" (3828) میں "صیغہ جزم" کے ساتھ "معلقاً" لیث بن سعد سے، انہوں نے ہشام بن عروہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔