المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
638. ذكر مناقب عبد الرحمن بن سمرة القرشي - رضى الله عنه -
سیدنا عبد الرحمن بن سمرہ قرشی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 5988
وأخبَرَناهُ عبد الله بن إسحاق الخُزاعيُّ بمكة، حدثنا أبو يحيى بن أبي مَسَرَّة، حدثنا مُعاذ بن أَسدِ المَروَزي، حدثنا الفَضْل بن موسى، حدثنا صالح بن أبي جُبير (2) ، عن أبيه، عن رافع بن عمرو الغِفاري، قال: كنت أَرمي نخلًا للأنصار، فأَخَذُوني، فذهَبُوا بي إلى رسول الله ﷺ، فقالوا: هذا يَرْمي نَخْلَنَا، فقال رسول الله ﷺ:"يا رافعُ، لِمَ تَرْمي نخلَهم؟" قلت: يا رسولَ الله، أجُوعُ، قال:"فكُلْ ما وَقَع (1) ، أشبَعَك اللهُ وأَرْواكَ" (2) . ذكرُ مناقب عبد الرحمن بن سَمُرة القُرشي ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5875 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5875 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا رافع بن عمر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں انصار کے باغات میں ان کے کھجوروں کے درختوں پر پتھر مار مار کر کھجوریں اتار کر کھایا کرتا تھا (ایک دفعہ) انہوں نے مجھے پکڑ لیا اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: اے رافع تم ان کی کھجوروں پر پتھر کیوں مارتے ہو؟ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھوک کی وجہ سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ٹوٹ کر خود بخود نیچے گر جائیں وہ کھا لیا کرو۔ (یہ اجازت صرف اس علاقے یا اس زمانے کے لئے ہیں جہاں یہ عرف جاری ہوا اور لوگ گری ہوئی کھجوروں یا پھلوں کا اٹھا کر کھانے کی اجازت دیتے ہوں۔ آج جب کہ گرے ہوئے پھل بھی کوئی شخص مفت میں دینے کے لئے تیار نہیں ہے تو آپ گرے ہوئے پھل بھی اٹھا کر کھانا جائز نہیں ہے۔) [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5988]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5988 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في النسخ الخطّية إلى: جعفر.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "جعفر" بن گیا ہے۔
(1) في (ص): مما سقط.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ص) میں "مما سقط" ہے۔
(2) حديث حسن بما قبله وهذا إسناد محتمل للتحسين من أجل أبي جُبير: وهو مولى الحكم ابن عمرو الغفاري، لم يرو عنه غير ابنه صالح ولم يعرف بجرح، وابنه صالح روى عنه اثنان ثقتان وذكره ابن حبان في "الثقات"، فحديثهما محتمل للتحسين.
⚖️ درجۂ حدیث: پچھلی حدیث کی وجہ سے یہ "حسن" ہے، اور ابو جبیر (حکم بن عمرو الغفاری کے غلام) کی وجہ سے یہ سند "حسن" ہونے کا احتمال رکھتی ہے۔ اگرچہ ان سے صرف ان کے بیٹے صالح نے روایت کی ہے، مگر ان پر کوئی جرح نہیں ہے۔ اور ان کے بیٹے صالح سے دو ثقہ راویوں نے روایت کی ہے اور ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا ہے، لہٰذا ان دونوں کی حدیث "تحسین" کا احتمال رکھتی ہے۔
وأخرجه الترمذي (1288) عن أبي عمار الحسين بن حُريث، عن الفضل بن موسى، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (1288) نے ابو عمار حسین بن حریث کے واسطے سے فضل بن موسیٰ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقال الترمذي: هذا حديث حسن غريب صحيح.
📝 نوٹ / توضیح: ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث "حسن غریب صحیح" ہے۔