🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
644. كان المغيرة من أهل الر أى
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اہلِ رائے میں شمار ہوتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6002
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحُسين ابن الفَرَج، حدثنا محمد بن عُمر، قال: المغيرةُ بن شُعبة بن أبي عامر بن مسعود بن مُعتِّب بن مالك بن كعب بن عَمرو بن سَعْد بن عَوف بن ثَقِيف - واسمه قَسِيٌّ - بن مُنبِّه بن بكر بن هوازِنَ بن منصور بن عِكْرمة بن خَصَفة بن قَيْس بن عَيْلان بن مُضَرَ بن نِزارٍ، وكان يُكنى أبا عبد الله، وكان يُقال له: مغيرةُ الرأي، وكان داهيةً، لا يَشْتَجِرُ في صدره أمرانِ إلَّا وَجَدَ في أحدهما مخرجًا، قَدِمَ على رسولِ الله ﷺ فأسلَمَ، وأقام معه حتى اعتَمَر عُمرةَ الحُدَيْبيَة في ذي القَعْدة سنةَ ستٍّ من الهجرة، قال المغيرة: فكانت أولَ سَفْرةٍ خرجتُ معه فيها، وكنتُ أكونُ مع أبي بكر الصِّدِّيق، وألْزَمُ النبيَّ ﷺ فيمن يَلزَمُه وشَهِدَ المُغيرةُ بعد ذلك المَشاهِدَ مع رسولِ الله ﷺ، وقَدِمَ وفدُ ثَقيفٍ فأنزلَهم عليه وأكرَمَهم، وبعثَه رسول الله ﷺ وأبا سُفْيانَ بنَ حَرْب إلى الطائف، فهَدَمُوا (1) الرَّبَّة.
محمد بن عمر نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے مغیرہ بن شعبہ بن ابی عامر بن مسعود بن معتب بن مالک بن کعب بن عمرو بن سعد بن عوف بن ثقیف (ان کا نام قصی ہے) بن منبہ بن بکر بن ہوازن بن منصور بن عکرمہ بن خصفہ بن قیس بن غیلان بن مضر بن نزار ۔ ان کی کنیت ابوعبداللہ تھی۔ ان کو مغیرہ الرایٔ بھی کہا جاتا تھا۔ آپ بہت سمجھدار اور زیرک تھے۔ ان کو کبھی بھی دو امور میں سے ایک چننا پڑتا تو آپ بہت جلد کسی جانب نکلنے کا فیصلہ کر لیتے تھے۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں قیام کیا اور 6 ہجری کو ذی القعدہ میں عمرہ حدیبیہ کیا۔ سیدنا مغیرہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ میرا یہ پہلا سفر تھا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مستقل رہنے والوں میں یہ بھی شامل تھے، عمرہ حدیبیہ کے بعد تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شرکت کی، قبیلہ ثقیف کا ایک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا بہت اکرام فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اور اور سیدنا ابوسفیان بن حرب کو طائف کی جانب بھیجا تھا تو انہوں نے بہت سارے لشکروں کو شکست دی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6002]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6002 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى: فهزموا، والتصويب من "طبقات ابن سعد" 5/ 175، و "تاريخ دمشق" لابن عساكر 60/ 15.
📝 نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں "فہزموا" (پس وہ شکست کھا گئے) تحریف ہو کر آ گیا ہے۔ درست متن "طبقات ابن سعد" (5/ 175) اور "تاریخ دمشق" (60/ 15) سے لیا گیا ہے۔
والرَّبَّة: هي اللّات، وهي صخرةٌ كانت تعبدها ثقيف بالطائف. وقد تحرَّفت في (ز) إلى: الدبير، وفي (ص) إلى الوية، وفي (م) إلى ألف به، والمثبت على الصواب من هامش (ز).
📝 نوٹ / توضیح: "الرَّبَّة": اس سے مراد لات ہے، جو ایک چٹان تھی جسے ثقیف طائف میں پوجتے تھے۔ نسخہ (ز) میں یہ تحریف ہو کر "الدبیر"، (ص) میں "الویہ" اور (م) میں "الف بہ" بن گیا ہے۔ درست متن (ز) کے حاشیہ سے لیا گیا ہے۔