🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
745. مجيء سعد ليحرس النبى فى ظلمة الليل
اندھیری رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کے لیے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کا آنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6245
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حَدَّثَنَا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا يحيى بن سعيد، عن عبد الله بن عامر، عن عائشة قالت: أَرِقَ رسولُ الله ﷺ ذاتَ ليلة، فقال:"ليتَ رجلًا يَحرُسُني من أصحابي الليلةَ"، قالت: وسمعنا صوتَ السِّلاح، فقال رسول الله ﷺ:"مَن هذا؟" فقال سعدُ بن أبي وقاص: أنا يا رسولَ الله، جئتُ أحرُسُك، قالت عائشة: فنامَ رسولُ الله ﷺ حتَّى سمعتُ غَطِيطَه (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6125 - صحيح
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند نہیں آ رہی تھی، آپ نے فرمایا: کاش کہ اس رات میرے صحابہ میں سے کوئی چوکیداری کرے، ام المومنین فرماتی ہیں: ہم نے ہتھیاروں کی آوازیں سنیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: یہ کون ہے؟ تو آگے سے جواب آیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں سعد ابن ابی وقاص ہوں۔ میں آپ کی پہرے داری کرنے کے لئے آیا ہوں، ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے آ جانے کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنی سکون کی نیند سوئے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹوں کی آواز سنی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6245]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6245 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده صحيح. يحيى بن سعيد: هو الأنصاري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 ناموں کی تحقیق: یحییٰ بن سعید سے مراد یحییٰ بن سعید الانصاری ہیں۔
وأخرجه أحمد 42 / (25093)، وابن حبان (6986) من طريق يزيد بن هارون، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (42/ 25093) اور ابن حبان (6986) نے یزید بن ہارون کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه البخاري (2885) و (7231)، ومسلم (2410)، والترمذي (3756)، والنسائي (8160) و (8816) من طرق عن يحيى بن سعيد، به. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری (2885، 7231)، مسلم (2410)، ترمذی (3756) اور نسائی (8160، 8816) نے یحییٰ بن سعید کے متعدد طرق سے روایت کیا ہے۔ حاکم کا اسے مستدرک میں لانا ان کا 'ذہول' (بھول) ہے کیونکہ یہ پہلے سے صحیحین میں ہے۔
والغطيط: صوت النائم المرتفع.
📝 نوٹ / توضیح: 'الغطیط' سے مراد سوتے ہوئے بلند آواز سے خراٹے لیناہے۔