🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
748. فضيلة مكة على بيت المقدس
مکہ مکرمہ کی فضیلت بیت المقدس پر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6253
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الربيع بن سليمان، حَدَّثَنَا أَسد بن موسى، حَدَّثَنَا العَطَّاف بن خالد المخزومي، عن عثمان بن عبد الله بن الأرقَم، عن جدِّه الأرقم؛ وكان بدريًّا، وكان رسول الله ﷺ أَوى في داره عند الصَّفا حتَّى تَكامَلوا أربعين رجلًا مسلمين، وكان آخرَهم إسلامًا عمرُ بن الخطّاب ﵃، فلما كانوا أربعين خرجوا إلى المشركين. قال الأرقمُ: فجئتُ رسول الله ﷺ لأودِّعَه، وأردتُ الخروجَ إلى بيت المقدِس، فقال لي رسول الله ﷺ: أين تريدُ؟" قلت: بيتَ المقدِس، قال:"وما يُخرِجُك إليه، أفي تجارةٍ؟" قلت: لا، ولكنْ أُصلَّي فيه، فقال رسول الله ﷺ:"صلاةٌ هاهنا خيرٌ من ألفِ صلاةٍ ثَمَّ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6130 - صحيح
عثمان بن عبداللہ بن ارقم مخزومی اپنے دادا ارقم کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ بدری صحابی تھے، اور کوہ صفا کے قریب انہی کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرے تھے اور اسی گھر میں پورے چالیس لوگ مسلمان ہوئے تھے، اور اس گھر میں سب سے آخر میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اسلام لائے تھے۔ جب چالیس آدمی پورے ہو گئے تو یہ لوگ مشرکین کی جانب نکلے، سیدنا ارقم فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آپ سے الوداع ہونے کے لئے آیا، کیونکہ میں بیت المقدس کی جانب روانگی کا ارادہ کر چکا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ تم کدھر کا ارادہ رکھتے ہو؟ میں نے کہا: بیت المقدس جانا چاہتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم وہاں کیوں جانا چاہتے ہو؟ کیا تجارت کے لئے جا رہے ہو؟ میں نے کہا: نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں تجارت کے لئے نہیں جا رہا بلکہ میں وہاں نماز پڑھنے کے لئے جا رہا ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہاں پر نماز پڑھنا، وہاں کی ہزار نمازوں سے زیادہ ثواب رکھتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6253]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6253 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لاضطراب العطاف بن خالد فيه وجهالة شيخه عثمان كما هو مبين في تعليقنا على "مسند أحمد" 39/ (24009/ 1) حيث رواه عصام بن خالد، عن العطاف. وانظر تمام الكلام عليه هناك.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ عطاف بن خالد کا اس میں 'اضطراب' (سند یا متن میں بے ترتیبی) کرنا اور ان کے استاد عثمان کا 'مجہول' ہونا ہے، جیسا کہ ہم نے "مسند احمد" (39/ 24009/ 1) کے حاشیے میں تفصیل سے لکھا ہے۔
وانظر حديث أبي ذر الآتي عند المصنّف برقم (8764).
📝 نوٹ / توضیح: اس سلسلے میں حضرت ابو ذر کی حدیث بھی دیکھیں جو آگے رقم (8764) پر آئے گی۔