المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
777. المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده
مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں
حدیث نمبر: 6326
أخبرني إسماعيل بن علي الخُطَبي ببغداد، حدثنا محمد بن العبّاس المؤدِّب، حدثنا سُرَيج بن النُّعمان الجَوهَري، أخبرنا عبد العزيز بن محمد الدَّرَاوَرْدي، حدثني رَبيعة بن أبي عبد الرحمن، عن الحارث بن بلال بن الحارث المُزَني، عن أبيه قال: قلت: يا رسول الله، فَسْخُ الحجِّ لنا خاصّةً أم للناس عامّةً؟ قال:"بل لنا خاصَّةً" (1) .
حارث بن بلال بن حارث مزنی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (وہ فرماتے ہیں کہ) میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج صرف ہمارے لئے فسخ ہوا ہے یا یہ حکم تمام لوگوں کے لئے ہے؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ صرف ہمارے لئے ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6326]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6326 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لجهالة حال الحارث بن بلال.
⚖️ درجۂ حدیث: حارث بن بلال کے 'مجہول الحال' ہونے کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے۔
وأخرجه أحمد 25/ (15853) عن سريج بن النُّعمان، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 'مسند' (25/ 15853) میں سريج بن النعمان کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد أيضًا (15854)، وأبو داود (1808)، وابن ماجه (2984)، والنسائي (3776) من طرق عن عبد العزيز الدراوردي، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابو داود (1808)، ابن ماجہ (2984) اور نسائی (3776) نے عبد العزیز الدراوردی کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
وقال أبو داود في "مسائله لأحمد" ص 302: قلت لأحمد: حديث بلال بن الحارث في فسخ الحج! قال: ومَن بلال بن الحارث أو الحارث بن بلال، ومن روى عنه؟ ليس يصحُّ حديثٌ في أن الفسخ كان لهم خاصة، وهذا أبو موسى يُفتي به في خلافة أبي بكر، وصدر من خلافة عمر. وانظر "زاد المعاد 2/ 191 - 193.
📌 اہم نکتہ: امام ابو داود نے امام احمد بن حنبل سے نقل کیا ہے کہ جب ان سے بلال بن الحارث کی 'فسخِ حج' والی روایت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: "بلال بن حارث یا حارث بن بلال کون ہیں؟ اور ان سے کس نے روایت کی ہے؟ ایسی کوئی حدیث صحیح نہیں کہ فسخِ حج صرف ان کے لیے خاص تھا، جبکہ حضرت ابو موسیٰ اشعری حضرت ابوبکر اور ابتدائی عہدِ فاروقی میں اس (فسخ) کا فتویٰ دیتے رہے ہیں"۔ (زاد المعاد 2/ 191-193 دیکھیں)۔