المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
779. سؤال صفوان عن الأوقات المكروهة للصلاة
نماز کے مکروہ اوقات کے بارے میں صفوان کا سوال
حدیث نمبر: 6330
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا يوسف بن يعقوب القاضي، حدثنا محمد بن أبي بكر المُقدَّمي، حدثنا حميد بن الأسود، حدثنا الضحّاك بن عثمان، عن سعيد المَقبُري، عن صفوان بن المعطَّل السُّلَمي، أنه سأَل رسول الله ﷺ، فقال: يا نبيَّ الله، إني سائلُكَ عن أمرٍ أنت به عالمٌ وأنا به جاهل، قال:"ما هوَ؟" قال: هل من ساعاتِ الليل والنهار من ساعةٍ تُكرَه فيها الصلاة؟ قال:"إذا صلَّيتَ الصبحَ فَدَعِ الصلاةَ حتى تَطلُعَ الشمسُ، فإنها تَطلُع لقَرْنَي شيطانٍ، ثم صلِّ، فالصلاةُ متقبَّلةٌ، حتى تستويَ الشمس على رأسك كالرُّمْح، فإذا كانت على رأسِك كالرُّمح فدَعِ الصلاةَ، فإنها الساعةُ التي تُسجَرُ فيها جهنَّمُ، وتُفتَحُ فيها أبوابُها حتى تَزِيعَ (1) الشمس، فإذا زاغت فالصلاةُ محضورةٌ متقبَّلةٌ حتى تصلِّيَ العصر، ثم دَعِ الصلاةَ حتى تَعْرُبَ الشمس" (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6204 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6204 - صحيح
سیدنا صفوان بن معطل سلمی کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی مسئلہ پوچھا اور کہا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ سے ایسی بات پوچھ رہا ہوں جس کے بارے میں آپ جانتے ہیں اور میں اس سے جاہل ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا دن اور رات میں کوئی ساعت ایسی ہے جس میں نماز مکروہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم فجر کی نماز پڑھ لو تو سورج طلوع ہونے تک (نفلی) نماز چھوڑ دو، کیونکہ سورج شیطان کے سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے، (جب سورج خوب بلند ہو جائے تو) پھر نماز پڑھ سکتے ہو، یہاں تک کہ سورج سر پر نیزے کی طرح برابر ہو جائے، جب سورج نیزے کی طرح سر پر آ جائے تب نماز نہ پڑھو کیونکہ اس وقت دوزخ کو بھڑکایا جاتا ہے، اور اسی وقت جہنم کے دروازے کھولے جاتے ہیں، سورج ڈھلنے تک نماز سے رکے رہو، پھر جب سورج ڈھل جائے تو نماز عصر پڑھنے تک نماز پڑھ سکتے ہو، (پھر جب عصر پڑھ لو تو) غروب آفتاب تک (نفلی) نماز سے رکے رہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6330]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6330 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) هكذا في (ب)، وهو الصواب، وفي (ز) و (م) و (ص) ترتفع، لكن كتب في حاشية (ز): صوابه تزيغ. وزاغت: أي: مالت.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ب) میں 'تزیغ' ہے اور یہی درست ہے، دیگر نسخوں میں 'ترتفع' لکھا ہے مگر (ز) کے حاشیے میں تصحیح موجود ہے۔ 'زاغت' کا مطلب ہے: (سورج کا) ڈھل جانا۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد لا بأس برجاله إلّا أنه منقطع، سعيد بن أبي سعيد المقبري لم يدرك صفوان بن المعطّل، بينهما فيه أبو هريرة كما سيأتي.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور اس کے راوی معتبر ہیں، مگر اس سند میں 'انقطاع' ہے؛ کیونکہ سعید المقبری نے حضرت صفوان بن المعطل کا زمانہ نہیں پایا، ان کے درمیان حضرت ابو ہریرہ کا واسطہ ہے جیسا کہ آگے آئے گا۔
وأخرجه عبد الله بن أحمد في زياداته على "المسند" 37/ (22661) عن محمد بن أبي بكر المقدمي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عبد اللہ بن احمد نے "مسند احمد" کے زوائد (37/ 22661) میں محمد بن ابی بکر المقدمی کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (1252)، وابن حبان (1542) من طريق محمد بن إسماعيل بن أبي فُديك، عن الضحاك بن عثمان، عن سعيد المقبري، عن أبي هريرة قال: سأل صفوان بن المعطل رسولَ الله … وذكره. وإسناده قوي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند قوی ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (1252) اور ابن حبان (1542) نے الضحاک بن عثمان عن سعید المقبری عن ابی ہریرہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن حبان (1550) من طريق عياض بن عبد الله القرشي، عن سعيد المقبري، عن أبي هريرة: أنَّ رجلًا أتى رسول الله ﷺ … فذكره ولم يسم السائل. وعياض فيه لِين.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (1550) نے عیاض بن عبد اللہ القرشی کے طریق سے روایت کیا ہے، مگر اس میں سائل کا نام مذکور نہیں ہے۔ عیاض میں تھوڑی کمزوری (لین) ہے۔
وله شاهد من حديث عمرو بن عَبَسة السلمي عند مسلم (832). وقد سلف عند المصنف برقم (593).
🧩 متابعات و شواہد: اس کا شاہد حضرت عمرو بن عبسہ السلمی کی روایت ہے جو صحیح مسلم (832) میں ہے اور مصنف کے ہاں پہلے رقم (593) پر گزر چکی ہے۔