المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
781. ذكر حمزة بن عمرو الأسلمي رضي الله عنه
حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ کا ذکر
حدیث نمبر: 6333
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن بِشْر بن مَطَر، حدثنا أبو هريرة محمد بن فراس الصَّيرَفي، حدثنا سَلّم بن قُتَيبة، حدثنا عمر بن نَبهان (2) ، حدثني سَلّام أبو عيسى، حدثنا صفوان بن المعطَّل السُّلَمي قال: خرجنا حُجّاجًا، فلما كنا بالعَرْج إذا نحن بحيّةٍ تضطرب فلم تَلبَثْ أن ماتت، فأخرج له رجلٌ منا خِرقةً من عَيْبة له فلفَّها فيها وغيَّبها في الأرض فدَفَنها، ثم قَدِمْنا مكة، فإنّا لَبالمسجدِ الحرامِ إذ وَقَفَ علينا شخصٌ فقال: أيُّكم صاحبُ عمرو بن جابر؟ فقلنا: ما نعرف عمرَو ابنَ جابر، قال: أيُّكم صاحبُ الجانِّ؟ قالوا: هذا، قال: أمَا إنه كان آخرَ التسعة موتًا، الذين أتَوْا رسولَ الله ﷺ يستمعون القرآن (3) . ذكرُ حمزة بن عمرو الأسلمي ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6207 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6207 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حج کرنے کے لئے روانہ ہوئے، جب ہم مقام عرج میں پہنچے، تو ہم نے اپنے سامنے ایک بہت بڑا سانپ دیکھا جو تڑپ رہا تھا، کچھ ہی دیر میں وہ مر گیا۔ ہم میں سے ایک آدمی نے اپنی زنبیل سے کپڑے کا ایک ٹکڑا نکالا، اس سانپ کو اس کپڑے میں لپیٹ کر زمین میں دفن کر دیا، پھر ہم مکہ شریف پہنچے، ہم مسجد حرام کے دروازے پر تھے کہ ایک آدمی ہم سے ملا، اس نے پوچھا: تم میں عمرو بن جابر کا ساتھی کون ہے؟ ہم نے کہا: ہم عمرو بن جابر کو نہیں جانتے، اس نے کہا: سانپ کا ساتھی کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ آدمی ہے۔ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ اس کو جزائے خیر عطا فرمائے، وہ سانپ ان 9 جنات میں سے آخری تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر قرآن سنا کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6333]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6333 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: سنان.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں تحریف سے 'سنان' ہو گیا ہے (درست نام صفوان ہے)۔
(3) إسناده واهٍ، عمر بن نبهان متفق على ضعفه، وسلّام أبو عيسى لا يُعرف.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند 'واہی' (انتہائی کمزور) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عمر بن نبہان بالاتفاق ضعیف ہیں اور سلام ابو عیسیٰ غیر معروف (مجہول) راوی ہیں۔
وأخرجه عبد الله بن أحمد في زياداته على "المسند" 37/ (22662) عن أبي حفص عمرو بن علي السقاء، عن أبي قُتَيبة سلم بن قُتيبة، بهذا الإسناد. العَيْبة: وعاء توضع فيه الثياب.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عبد اللہ بن احمد نے "مسند احمد" کے زوائد میں ابو قتیبہ سلم بن قتیبہ کی سند سے روایت کیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: 'العَيْبہ' اس برتن یا تھیلے کو کہتے ہیں جس میں کپڑے رکھے جاتے ہیں۔