المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
793. ذكر عبد الله بن عمرو بن العاص بن وائل السهمي رضي الله عنه
عبد اللہ بن عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا ذکر
حدیث نمبر: 6366
ما حدَّثَناه أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا هلال بن العلاء الرَّقّي، حدثنا أَبي، حدثنا عُبيد الله بن عمرو، عن زيد بن أبي أُنيسة، عن عبد الملك بن عُمَير، عن الضَّحّاك بن قيس قال: كانت بالمدينة امرأةٌ تَخفِضُ النساء يقال لها: أم عطيَّة، فقال لها رسول الله ﷺ:"اخفِضِي ولا تَنهَكي، فإنه أنضَرُ للوجه، وأحْظَى عند الزَّوج" (1) . ذكرُ عبد الله بن عمرو بن العاص بن وائل السَّهْمي ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6236 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6236 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں ” ام عطیہ “ نامی ایک عورت رہتی تھی۔ یہ عورت کا ختنہ کیا کرتی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ہدایت دی کہ ختنہ کیا کرو لیکن زیادہ گہرا نہیں کیا کرو، کیونکہ وہ بظاہر اچھا بھی لگتا ہے اور شوہر کو اس میں لذت بھی زیادہ ملتی ہے۔ (عرب میں عورتوں کے ختنے کا رواج ہوتا تھا، اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت جاری فرمائی تھی) [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6366]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6366 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف، العلاء الرقي والد هلال ضعيف منكر الحديث، وقد أخطأ في إسناده فذكر زيد بن أبي أنيسة واسطة بين عبيد الله بن عمرو الرقي وعبد الملك بن عمير، وقد خالف ثقتان هما علي بن معبد الرقي عند الطبراني (8137) - وعنه أبو نعيم في "معرفة الصحابة" (3898) -، وعبدُ الله بن جعفر الرقي عند البيهقي في "السنن الكبرى" 8/ 324 و "معرفة السنن والآثار" (17480) والخطيب في "المتفق والمفترق" (767)، فروياه عن عبيد الله بن عمرو الرقي، عن رجل من أهل الكوفة، عن عبد الملك بن عمير، عن الضَّحّاك بن قيس. فأبهما الواسطة، وأما الضحاك بن قيس هذا فنقل البيهقي عن يحيى بن معين أنه قال: هذا ليس بالفهري. ولذا قال الحافظ ابن حجر في "الإصابة" 3/ 504: هذا تابعي أرسل هذا الحديث.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ہلال کے والد العلاء الرقی 'منکر الحدیث' ہیں اور انہوں نے سند میں غلطی کی ہے۔ ثقہ راویوں نے الواسطہ کو 'مبہم' رکھا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: امام ابن معین کے بقول یہ ضحاک بن قیس 'الفہری' (صحابی) نہیں ہیں بلکہ ایک تابعی ہیں جنہوں نے یہ حدیث 'ارسال' کے ساتھ بیان کی ہے۔ (دیکھیں: الاصابہ 3/ 504)۔
قلنا: وعلى مقتضى كلام ابن معين، فإنَّ ذكر هذا الحديث في ترجمة الضحاك بن قيس الفِهري ذهولٌ من الحاكم ﵀.
🔍 فنی نکتہ: ہم کہتے ہیں کہ ابن معین کے کلام کے مطابق، اس حدیث کو ضحاک بن قیس الفہری کے ترجمہ (سوانح) میں ذکر کرنا امام حاکم کی بھول (ذہول) ہے۔
ورواه مروان بن معاوية الفزاري عند أبي داود (5271) عن محمد بن حسان الكوفي، عن عبد الملك بن عمير، عن أم عطية الأنصارية: أنَّ امرأة كانت تختن بالمدينة … وذكره. قال أبو داود: ومحمد بن حسان مجهول، وهذا الحديث ضعيف.
📖 حوالہ: اسے مروان بن معاویہ نے ابو داؤد (5271) کے ہاں محمد بن حسان کے طریق سے حضرت ام عطیہ سے روایت کیا کہ مدینہ میں ایک عورت ختنہ کرتی تھی۔ ⚖️ درجۂ حدیث: امام ابو داؤد فرماتے ہیں کہ محمد بن حسان 'مجہول' ہے اور یہ حدیث ضعیف ہے۔
قلنا: وله شواهد لا تصح، وليس لأيٍّ منها إسناد قائم، انظر "التلخيص الحبير" لابن حجر 4/ 83. الخفض: هو للنساء كالخِتان للرجال. لا تنهكي: أي: لا تبالغي بالقطع.
⚖️ تحقیق: اس روایت کے شواہد صحیح نہیں ہیں اور کسی کی سند بھی قائم نہیں۔ 📝 لغوی توضیح: 'الخفض' عورتوں کے ختنہ کو کہتے ہیں۔ 'لا تنہکی' کا مطلب ہے کہ کاٹنے میں مبالغہ نہ کرو۔ (تلخیص الحبیر 4/83)۔