المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
797. ذكر أسماء بن حارثة الأنصاري رضى الله عنه
سیدہ اسماء بن حارثہ انصاری رضی اللہ عنہ کا ذکر
حدیث نمبر: 6377
أخبرنا عبد الله بن محمد الصَّيدلاني، حدثنا إسماعيل بن قُتَيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا جَرير، عن عُمَارة، عن الأخنس بن خَليفة الضَّبّي قال: رأى كعبُ الأحبارِ عبدَ الله بن عمرو يُفتي الناسَ، فقال: من هذا؟ قالوا: هذا عبدُ الله بن عمرو بن العاص، فأرسَلَ إليه رجلًا من أصحابه، قال: قل له: يا عبدَ الله بنَ عمرو، لا تَفْترِ على الله كذِبًا فيُسحِتك بعذابٍ، وقد خابَ من افتَرى، قال: فأتاه الرجلُ فقال له ذلك، قال ابنُ عَمرو: صَدَقَ كعبٌ، قد خاب من افتّرى، ولم يَعْضَبْ، قال: فأعادَ عليه كعبٌ الرجلَ فقال: سَلْهُ عن الحَشْر ما هو؟ وعن أرواح المسلمينَ أين تجتمعُ؟ وأرواحِ أهل الشِّرك أين تجتمعُ؟ فأتاه فسأله، فقال: أما أرواح المسلمين فتجتمعُ بأَرِيحا، وأما أرواحُ أهل الشِّرك فتجتمعُ بصَنعاءَ، وأمّا أولُ الحَشْر فإنها نارٌ تَسُوق الناسَ يرونها ليلًا، ولا يَرَونها نهارًا، فرجع رسولُ كعبٍ إليه فأخبره بالذي قالَ، فقال: صَدَقَ، هذا عالمٌ فَسَلُوه (1) . ذكرُ أسماء بن حارثة الأنصاري ﵁ -
اخنس بن خلیفہ ضبی فرماتے ہیں: سیدنا کعب الاحبار رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو لوگوں کو فتویٰ دیتے دیکھا تو پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ ” سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ “ ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک ساتھی کو ان کی جانب بھیجا اور کہا: ان کو کہنا: اے عبداللہ بن عمرو! اللہ تعالیٰ کی ذات پر جھوٹ مت بولو، ورنہ تم اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مستحق ہو جاؤ گے۔ اور وہ شخص ناکام ہوا جس نے اللہ تعالیٰ کی ذات پر جھوٹ باندھا۔ وہ آدمی ان کے پاس آیا، اور وہ سب کہہ ڈالا، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا کعب نے سچ کہا، واقعی وہ شخص ناکام ہوا جس نے اللہ تعالیٰ کی ذات پر جھوٹ بولا۔ اور عبداللہ بن عمرو نے اس کا برا نہیں منایا، سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے اس آدمی کو دوبارہ ان کے پاس بھیجا اور کہا: ان سے پوچھا کہ حشر کیا ہے؟ اور مومنین کی ارواح کہاں جمع ہوں گی؟ اور مشرکین کی ارواح کہاں جمع کی جائیں گی؟ اس شخص نے ان کے پاس آ کر یہ سوالات پوچھے، انہوں نے جواب دیا: مسلمانوں کی ارواح مقام ” اریحاء “ میں جمع ہوں گی، اور مشرکین کی ارواح ” مقام صنعاء “ میں جمع ہوں گی، اور حشر کا آغاز یوں ہو گا کہ ایک آگ نمودار ہو گی جو لوگوں کو اپنے آگے آگے ہانکتی لے جائے گی، لوگوں کو ہر طرف رات کی طرح اندھیرا نظر آئے گا، اور دن کی روشنی دکھائی نہیں دے گی۔ سیدنا کعب کا نمائندہ ان کے سوالوں کے جواب لے کر ان کے پاس واپس آیا اور تمام جواب سنا دیئے، جوابات سن کر سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: اس آدمی نے سچ کہا ہے۔ یہ واقعی عالم دین ہے، اس سے مسائل پوچھ لیا کرو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6377]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6377 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لجهالة الأخنس بن خليفة الضبي، فإنه لا يُعرَف. يحيى بن يحيى: هو النيسابوري، وجرير: هو ابن عبد الحميد الضبّي، وعمارة: هو ابن القعقاع بن شُبرمة الضبي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کا اسناد "ضعیف" ہے کیونکہ اخنس بن خلیفہ الضبی مجہول ہے اور پہچانا نہیں جاتا۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سند کے دیگر راویوں میں یحییٰ بن یحییٰ سے مراد "نیسابوری"، جریر سے مراد "ابن عبد الحمید الضبی" اور عمارہ سے مراد "ابن القعقاع بن شبرمہ الضبی" ہیں۔
وقال الذهبي في "تلخيص المستدرك": الأخنس تابعي كبير أودعه البخاري في "الضعفاء" وقوَّاه أبو حاتم وغيره. قلنا: قد جعل الذهبي الأخنس هذا والذي روى عن ابن مسعود وروى عنه ابنه بكيرٌ واحدًا، فذاك - أي: الذي روى عنه ابنه - هو الذي أودعه البخاري في "الضعفاء" وقواه أبو حاتم، وذكره ابن حجر في "تهذيب التهذيب" على الشك فقال: لعله هو. وعلى كلا الأمرين فهو مجهول الحال.
🔍 فنی نکتہ / علّت: امام ذہبی نے "تلخیص المستدرک" میں فرمایا کہ اخنس ایک بڑے تابعی ہیں جنہیں امام بخاری نے "الضعفاء" میں ذکر کیا ہے جبکہ ابو حاتم وغیرہ نے ان کی توثیق کی ہے۔ ہم (محققین) کہتے ہیں کہ امام ذہبی نے اس اخنس کو اور اس راوی کو جو حضرت ابن مسعود سے روایت کرتا ہے اور جس سے اس کا بیٹا بکیر روایت کرتا ہے، ایک ہی شخص قرار دے دیا ہے؛ حالانکہ امام بخاری نے جسے "الضعفاء" میں ذکر کیا اور ابو حاتم نے توثیق کی وہ دوسرا راوی (بکیر کا والد) ہے۔ حافظ ابن حجر نے "تہذیب التہذیب" میں شک کے ساتھ ذکر کرتے ہوئے کہا: "شاید یہ وہی ہے"۔ بہرحال دونوں صورتوں میں یہ راوی "مجہول الحال" (نا معلوم احوال والا) ہے۔
وهذا الخبر أشار المزي في ترجمة الأخنس من "تهذيب الكمال" 2/ 296 إلى أنَّ ابن ماجه خرَّجه في "تفسيره".
📖 حوالہ / مصدر: علامہ مزی نے "تہذیب الکمال" 2/ 296 میں اخنس کے حالات کے تحت اشارہ کیا ہے کہ امام ابن ماجہ نے اس خبر کو اپنی "تفسیر" میں روایت کیا ہے۔
وأما نار الحشر، فسيأتي عند المصنف برقم (8620) من وجه آخر عن عبد الله بن عمرو: أنهم إذا قالوا قالت وإذا باتوا باتت. وسنذكر هناك شواهده من المرفوع. وظاهرها أنهم يرونها ليلًا ونهارًا.
📌 اہم نکتہ: جہاں تک "نارِ حشر" (حشر کی آگ) کا تعلق ہے، تو وہ مصنف کے ہاں نمبر (8620) پر حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے دوسرے طریق سے آئے گی جس میں ذکر ہے کہ: "جب وہ (لوگ) دوپہر کو سوتے تو وہ (آگ) بھی ٹھہر جاتی اور جب وہ رات گزارتے تو وہ بھی ٹھہر جاتی"۔ ہم وہاں اس کے مرفوع شواہد ذکر کریں گے، جن کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ وہ لوگ اسے دن رات دیکھتے ہوں گے۔