🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
806. إن قوائم منبري رواتب فى الجنة
میرے منبر کے پائے جنت میں ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6398
حدثنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدثني أبي، حدثنا هشام بن عمّار، حدثنا عبد الله بن يزيد البَكْري، حدثنا إسحاق بن يحيى بن طلحة، حدثني عمِّي موسى بن طلحة، حدثني أبو واقدٍ اللَّيثي قال: كنت جالسًا عند رسول الله ﷺ تَمسُّ رُكْبتي ركبته، فأتاه آتٍ فالتقَمَ أُذُنَه، فتغيَّر وجهُ رسول الله ﷺ وثارَ الدمُ إلى أساريرِه ﷺ، ثم قال:"هذا رسولُ عامرِ بن الطُّفَيل يَتهدَّدُني ويتهدَّدُ من يَأْوي إليَّ، وقد كَفَانيهِ اللهُ ﷿ بولدِ إسماعيلَ بابنَيْ قَيْلة"؛ يعني الأنصارَ (2) .
سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اتنا قریب ہو کر بیٹھا ہوا تھا کہ میرے گھٹنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں کو چھو رہے تھے، ایک آنے والا آیا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کان مبارک کو زور سے پکڑ کر کچھ کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا اور آپ کی نسوں میں خون ابھر آیا، بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ عامر بن طفیل کا نمائندہ تھا، یہ مجھے اور میرے پاس آنے والوں کو جھڑک رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد اور بنی قیلہ (راوی کہتے ہیں:) یعنی انصار کے ساتھ، اس سے میرا دفاع کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6398]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6398 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف جدًّا، عبد الله بن يزيد البكري ذكره ابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل" 5/ 201 ونقل عن أبيه أنه قال فيه: ضعيف الحديث ذاهب الحديث. وشيخه إسحاق بن يحيى ابن طلحة متروك الحديث.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کا اسناد "شدید ضعیف" (ضعیف جداً) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عبد اللہ بن یزید البکری کو ابن ابی حاتم نے "الجرح والتعدیل" 5/ 201 میں ذکر کیا اور اپنے والد سے نقل کیا کہ وہ "ضعیف الحدیث" اور "ذاہب الحدیث" (ساقط الاعتبار) ہے۔ نیز ان کے شیخ اسحاق بن یحییٰ بن طلحہ "متروک الحدیث" ہیں۔
وأخرجه ابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (1731)، والطبراني في "الكبير" (3299)، و "الأوسط" (6758) من طريق هشام بن عمار، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی عاصم نے "الآحاد والمثانی" (1731) میں اور امام طبرانی نے "المعجم الکبیر" (3299) اور "المعجم الاوسط" (6758) میں ہشام بن عمار کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وانظر حديث سلمة بن الأكوع الآتي برقم (7159).
🧩 متابعات و شواہد: حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کی حدیث نمبر (7159) بھی ملاحظہ کریں جو آگے آرہی ہے۔