🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
809. ذكر عبد الله بن عباس بن عبد المطلب رضي الله عنهما
سیدنا عبد اللہ بن عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہما کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6403
أخبرني محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفَاري، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا كامل أبو العلاء قال: سمعت حبيب بن أبي ثابت يُخبِر عن يحيى بن جَعْدة، عن زيد بن أرقم قال: خرجْنا مع رسول الله ﷺ حتى انتَهيْنا إلى غَديرِ خُمٍّ، فأَمَرَ بدَوْحٍ، فكُسِحَ في يومٍ ما أَتى علينا يوم كان أشدَّ حرًّا منه، فحَمِدَ اللهَ وأثنى عليه، وقال:"يا أيها الناسُ، إنه لم يُبعَثْ نبيٌّ قطُّ إِلَّا عاشَ نصفَ ما عاشَ الذي كان قبلَه، وإني أُوشِكُ أن أُدْعَى فأُجيبَ، وإني تاركٌ فيكم ما لن تَضِلُّوا بعدَه: كتابَ الله ﷿"، ثم قام فأَخذ بيد عليٍّ فقال:"يا أيها الناسُ، مَن أَولى بكم من أنفسِكم؟" قالوا: الله ورسولُه أعلم، قال:"مَن كنتُ مولاهُ فعليٌّ مولاهُ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ عبد الله بن عبّاس بن عبد المطَّلب ﵄
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6272 - صحيح
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، اور غدیر خم کے مقام پر پہنچے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پر سائبان لگانے کا حکم دیا، اسی دن سخت گرم ہوائیں چلنا شروع ہو گئیں، ہماری زندگی میں اس سے زیادہ گرم دن کبھی نہیں آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا: اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے جس نبی کو بھی دنیا میں بھیجا ہے، وہ اپنے سے سابقہ نبی سے آدھی زندگی جیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ میرا بلاوا آ جائے اور میں اس بلاوے کو قبول کر لوں، میں تمہارے اندر وہ چیز چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ اس (کو مضبوطی سے تھام لینے) کے بعد تم کبھی گمراہ نہیں ہو گے، وہ ہے اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن پاک۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھام کر کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے لوگو! کونسی ذات ہے جو تمہاری جانوں سے بڑھ کر تمہاری مالک ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں تمہاری جانوں کا تم سے زیادہ مالک نہیں ہوں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا میں مولیٰ ہوں، علی بھی اس کا مولیٰ ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6403]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6403 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح دون قصة عيش كل نبي نصف ما عاش الذي كان قبله، فقد تفرَّد بها في هذا الحديث كامل بن العلاء أبو العلاء، وهو ليس بذاك القوي، وله ما ينكر في بعض رواياته كما قال ابن عدي في "الكامل". أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے سوائے اس قصے کے کہ "ہر نبی اپنے سے پہلے والے نبی کی آدھی عمر پاتا ہے"۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس ٹکڑے کو نقل کرنے میں کامل بن العلاء (ابو العلاء) تنہا ہیں، اور وہ اتنے قوی راوی نہیں ہیں؛ ابن عدی نے "الکامل" میں فرمایا ہے کہ ان کی بعض روایات منکر ہوتی ہیں۔ 📝 نوٹ / توضیح: ابو نعیم سے مراد "الفضل بن دُکین" ہیں۔
وأخرجه الطبراني (4986) عن علي بن عبد العزيز البغوي، عن أبي نعيم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام طبرانی نے (4986) میں علی بن عبد العزیز البغوی عن ابو نعیم کی سند سے اسی اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد سلف حديث زيد بن أرقم هذا بنحوه -دون قصة عيش النبي ﷺ عند المصنف برقم (4627) من طريق سليمان الأعمش عن حبيب بن أبي ثابت عن أبي الطفيل عن زيد. فانظر تمام تخريجه هناك.
📖 حوالہ / مصدر: حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث (عمر والے قصے کے بغیر) پہلے مصنف کے ہاں نمبر (4627) پر سلیمان الاعمش عن حبیب بن ابی ثابت عن ابی الطفیل کی سند سے گزر چکی ہے، مکمل تخریج وہیں ملاحظہ کریں۔
ويشهد لحديث كامل أبي العلاء جميعه حديث حذيفة بن أُسيد عند الطبراني (3052)، لكن في إسناده زيد بن الحسن الأنماطي قال فيه أبو حاتم الرازي: منكر الحديث، وضعفه الحافظ ابن حجر في "التقريب".
🧩 متابعات و شواہد: کامل ابو العلاء کی اس پوری حدیث کا شاہد حضرت حذیفہ بن اسید کی حدیث ہے جو طبرانی (3052) میں ہے، 🔍 فنی نکتہ / علّت: لیکن اس کی سند میں زید بن الحسن الانماطی ہے جس کے بارے میں ابو حاتم رازی نے "منکر الحدیث" کہا ہے اور حافظ ابن حجر نے "التقریب" میں اسے ضعیف قرار دیا ہے۔