المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
815. رأى ابن عباس جبريل فى بيت النبى
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم ﷺ کے گھر میں جبریل علیہ السلام کو دیکھا
حدیث نمبر: 6419
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا أبو نُعيم الفضل بن دُكَين، حدثنا يونس بن أبي إسحاق، حدثني المِنهال بن عمرو قال: حدثني علي بن عبد الله بن عبّاس، عن أبيه قال: أمَرَنِي العباس قال: بِتْ بَالِ رسول الله ﷺ ليلةً، فانطلقتُ إلى المسجد فصلَّى رسول الله ﷺ العشاءَ الآخرةَ حتى لم يَبْقَ في المسجد أحدٌ غيرُه، قال: ثم مرَّ بي فقال:"مَن هذا؟" فقلت: عبدُ الله، قال:"فمَه؟" قلت: أمَرَني أبي أن أبيِتَ بكم الليلةَ، قال:"فالْحَقْ"، فلما دخل قال:"افرُشُوا لعبد الله" قال: فأُتِيتُ بوِسادةٍ من مُسُوح، قال: وتقدَّم إليَّ العبّاس أن لا تنامنَّ حتى تَحفَظَ صلاتَه، قال: فقَدِمَ رسولُ الله ﷺ فنام حتى سمعتُ غَطِيطَه، قال: ثم استوى على فراشه فرفع رأسَه إلى السماء فقال:"سبحانَ الملِكِ القُدُّوس" ثلاثَ مرات، ثم تلا هذه الآيةَ من آخر سورة آل عمران حتى ختمها ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ﴾ [آل عمران: 190] ، ثم قام فبال، ثم استَنَّ بسِواكه ثم توضَّأ، ثم دخل مُصلَّاهُ فصلَّى ركعتين ليستا بقصيرتين ولا طويلتين، قال: فصلَّى ثم أوتَرَ، فلما قَضَى صلاتَه سمعتُه يقول:"اللهمَّ اجعَلْ في بصري نورًا، واجعل في سمعي نورًا، واجعلْ في لساني نورًا، واجعل في قلبي نورًا، واجعل عن يميني نورًا، واجعلْ عن شِمالي نورًا، واجعلْ أَمامي نورًا، واجعلْ من خلفي نورًا، واجعلْ من فوقي نورًا، واجعلْ من أسفلَ مني نورًا، واجعلْ لي يوم أَلْقاكَ نورًا، وأَعظِمْ لي نورًا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6286 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6286 - على شرط البخاري ومسلم
علی بن عبداللہ بن عباس نے اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما) کا یہ ارشاد نقل کیا ہے (وہ فرماتے ہیں) مجھے میرے والد سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے حکم دیا (ان کے حکم کے مطابق) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کے پاس رات گزاری، میں مسجد کی جانب گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھائی، (نماز پڑھ کر سب لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ دوسرا کوئی شخص مسجد میں باقی نہ بچا تھا۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: عبداللہ بن عباس۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے کی وجہ پوچھی، تو میں نے بتایا کہ میرے والد صاحب نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں رات آپ کے پاس گزاروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ساتھ لے گئے، جب گھر پہنچے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ کے لئے اچھا بستر بچھاؤ، مجھے بالوں کی پوشش والا تکیہ دیا گیا۔ سیدنا عباس میرے پاس آ گئے تاکہ مجھے نیند نہ آئے اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی حفاظت کر سکوں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور سو گئے، (آپ اتنی گہری نیند سوئے تھے کہ) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک خراٹوں کی آواز سنی۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر دراز ہو گئے، اپنا سر آسمان کی جانب اٹھا لیا اور تین مرتبہ ” سبحان اللہ الملک القدوس “ پڑھا۔ پھر سورہ آل عمران کی آخری آیت ان فی خلق السموات والارض سے لے کر اختتام سورت تک پڑھا، پھر آپ کھڑے ہوئے اور مسواک کی۔ پھر وضو کیا، پھر مسجد میں تشریف لائے۔ پھر دو رکعت نوافل پڑھے، یہ دونوں رکعتیں نہ بہت چھوٹی تھیں اور نہ زیادہ لمبی تھیں۔ راوی کہتے ہیں، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، اس کے بعد وتر پڑھے۔ اور یہ دعا مانگی ” اے اللہ! میری آنکھوں میں نور کر دے، میری سماعتوں کو روشن کر دے، میری زبان کو نور کر دے، میرے دل کو نور سے بھر دے، میرے دائیں نور کر دے، میرے بائیں نور کر دے۔ میرے آگے نور کر دے اور میرے پیچھے نور کر دے۔ اور جس دن میں تیری ملاقات کے لئے آؤں تو اس دن بھی مجھے نور عطا کر۔ اور اس کو میرے لئے بہت بڑا نور کر دے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6419]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6419 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل يونس بن أبي إسحاق، وقد توبع.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے؛ البتہ یہ سند یونس بن ابی اسحاق کی وجہ سے "حسن" ہے، اور ان کی متابعت (تائید) بھی موجود ہے۔
وأخرجه الطبراني (10648) عن علي بن عبد العزيز البغوي، بهذا الإسناد. وقد جاء الطبراني بالرواية مفسَّرة، فذكر نوم النبي ﷺ وقيامه للصلاة ثلاث مرات، في كل مرة يتوضأ ويصلي ركعتين، ثم أوتر. فتمت له ست ركعات غير الوتر، ولم يذكر بكم أوتر.
🧾 تفصیلِ روایت: طبرانی (10648) نے علی بن عبدالعزیز البغوی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ اسے روایت کیا ہے۔ طبرانی کی روایت میں تفصیل ہے کہ نبی ﷺ سوئے اور نماز کے لیے تین بار اٹھے، ہر بار وضو کیا اور دو دو رکعتیں پڑھیں، پھر وتر پڑھے۔ اس طرح وتر کے علاوہ آپ کی چھ رکعتیں مکمل ہوئیں، لیکن یہ ذکر نہیں کہ وتر کتنے پڑھے۔
ورواه شبابة بن سوّار عن يونس بن أبي إسحاق عند أبي يعلى (2545) والطحاوي في "معاني الآثار" 1/ 286 - 287، فذكر صلاته ست ركعات وإيتاره بثلاث فتمَّت له تسع ركعات.
🧩 متابعات و شواہد: شبابہ بن سوار نے یونس بن ابی اسحاق سے اسے ابویعلیٰ (2545) اور طحاوی "معانی الآثار" (1/ 286-287) میں روایت کیا، جس میں آپ ﷺ کی چھ رکعتیں اور تین وتر ملا کر کل نو رکعتوں کا ذکر ہے۔
وأخرجه كذلك أحمد 5 / (3541)، ومسلم (763) (191)، وأبو داود (58) و (1353) و (1354)، والنسائي (402) من طريق محمد بن علي بن عبد الله بن عبّاس، عن أبيه، عن جده. وقد روي حديث ابن عبّاس هذا في مبيته عند النبي ﷺ وصلاته معه بالليل من غير وجه، ووقع في عدد صلاته اختلاف، فمنهم من قال: ثلاث عشرة ركعة، ومنهم من قال: إحدى عشرة ركعة، وانظر تحرير ذلك للحافظ ابن حجر في "فتح الباري" 4/ 91 - 93، وانتهى إلى أنَّ المحقَّق من عدد صلاته في تلك الليلة إحدى عشرة ركعة.
📖 حوالہ / مصدر: اسی طرح اسے احمد (5/ 3541)، مسلم (763/ 191)، ابوداود (58، 1353، 1354) اور نسائی (402) نے محمد بن علی بن عبداللہ بن عباس کے طریق سے ان کے والد اور دادا سے روایت کیا ہے۔ ابن عباس کی نبی ﷺ کے پاس رات گزارنے کی یہ حدیث کئی طرق سے مروی ہے اور رکعتوں کی تعداد میں اختلاف ہے۔ بعض نے تیرہ اور بعض نے گیارہ رکعتیں کہیں۔ حافظ ابن حجر نے "فتح الباری" (4/ 91-93) میں اس کی تحقیق کر کے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اس رات آپ ﷺ کی نماز کی صحیح تعداد گیارہ رکعتیں تھیں۔