🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
818. ذكر تبحر علم ابن عباس
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے علم میں گہرائی کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6425
أخبرني أبو بكر بن أبي دارِمٍ الحافظ بالكوفة، حدثنا الحسين بن جعفر القُرَشي،، حدثنا علي بن حَكِيم، حدثنا مالك بن سُعَير بن الخِمْس، حدثنا الأعمش، عن أبي وائل قال: حَجَجْتُ أنا وصاحبٌ لي وابنُ عبّاس على الحجِّ، فجعل يقرأُ سورة النُّور ويفسِّرها، فقال صاحبي: يا سبحانَ الله، ماذا يخرجُ من رأس هذا الرجل؟! لو سَمِعَت هذا التُّركُ لأسلَمَت (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6292 - صحيح
سیدنا ابووائل فرماتے ہیں: میں اور میرا ساتھی حج کرنے کے لئے گئے، ان دنوں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بھی حج کے لئے آئے ہوئے تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سورۃ النور پڑھ کر اس کی تفسیر بیان کر رہے تھے، میرے ساتھی نے کہا: سبحان اللہ! اس آدمی کے منہ سے کیسے پیارے پھول جھڑ رہے ہیں۔ اگر اس کی گفتگو ترکی لوگ سن لیں تو مسلمان ہو جائیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6425]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6425 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) خبر صحيح، رجاله لا بأس بهم غير شيخ المصنف ابن أبي دارم، فضعيف الحسين بن جعفر: هو ابن حبيب القرشي القتات، قال الدارقطني في "سؤالات الحاكم" (86): صدوق. وذكره الذهبي في "تاريخ الإسلام" 6/ 938. وعلي بن حكيم: هو الأودي.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ خبر صحیح ہے، اس کے تمام رجال "لا بأس بہ" (درست) ہیں سوائے مصنف کے شیخ "ابن ابی دارم" کے جو کہ ضعیف ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: حسین بن جعفر سے مراد ابن حبیب القرشی القتات ہیں جنہیں دارقطنی نے "صدوق" کہا ہے اور ذہبی نے "تاریخ الاسلام" (6/ 938) میں ذکر کیا ہے، جبکہ علی بن حکیم سے مراد "الاودی" ہیں۔
وانظر ما سلف قريبًا برقم (6423).
📌 اہم نکتہ: اس حوالے سے گزشتہ روایت رقم (6423) ملاحظہ کریں۔