🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
839. إن الزبير كان عفيفا فى الإسلام ، قانتا لله
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اسلام میں پاکدامن اور اللہ کے فرمانبردار تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6467
حدثني علي بن عيسى، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا محمد ابن ميمون المكِّي ومحمد بن الصَّبّاح قالا: حدثنا سفيان، عن ابن جُرَيج، عن ابن أبي مُلَيكة قال: ذُكِرَ ابن الزُّبيرَ عند ابن عبّاس فقال: كان عفيفًا في الإسلام، قارئًا للقرآن (1) ، كان أبوه الزُّبيرَ، وأمُّه أسماءُ، وجدُّه أبو بكر، وعمَّتُه خديجة، وجدَّته صفيَّة، وخالتُه عائشة، واللهِ لأحاسبنَّ له نَفْسي محاسبةً لم أحاسِبْها لأبي بكر ولا لعمر، ولكنه عَمَدَ فآثر عليَّ الحُمَيداتِ والأُساماتِ والتُّويتات (2) . قال أبو علي القبَّاني (3) : يريد بالحُمَيدات: حُمَيدَ بن زُهير بن الحارث بن أسد ابن عبد العُزَّى، وتُوَيتٌ ابنُ حَبيب بن أَسد بن العزَّى، وكان الزُّبيرُ ابنَ العوَّام بن خُوَيلد بن أسد بن عبد العزَّى.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6331 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ہاں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ ہوا۔ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: وہ اسلام میں پاکدامن تھے، عبادت الٰہی میں مشغول رہنے والے تھے، ان کے والد سیدنا زبیر ہیں، اور ان کی والدہ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا ہیں۔ ان کے دادا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔ ان کی پھوپھی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ ان کی دادی سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ ان کی خالہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ خدا کی قسم! میں نے جب بھی اپنے دل میں ان کے بارے میں کوئی حساب لگایا ہے جو کہ سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے لئے کبھی نہیں لگایا تو میں نے ان کو حمیدات، اسامات اور تویتات پر غالب پایا۔ ابوعلی قبانی کہتے ہیں: حمیدات سے مراد حمید بن زہیر بن حارث بن اسد بن عبدالعزیٰ ہیں۔ اور تویتات سے مراد تویت بن حبیب بن اسد ہیں۔ اور سیدنا زبیر بن عوام، اسد بن عبدالعزیٰ کے بیٹے خویلد کی اولاد میں سے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6467]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6467 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (ص) و (م) و (ب): قارئًا الله، وبين هاتين الكلمتين في (ص) و (م) بياض، وفي "تلخيص المستدرك" للذهبي: قانتًا لله. وأثبتنا لفظ "للقرآن" من مصادر التخريج.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ص، م، ب) میں "قارئاً اللہ" ہے اور درمیان میں خالی جگہ ہے۔ امام ذہبی کی "تلخیص" میں "قانتًا للہ" ہے؛ تاہم ہم نے دیگر مصادرِ تخریج کی بنیاد پر یہاں "للقرآن" کا لفظ ثابت کیا ہے۔
(2) إسناده صحيح. سفيان: هو ابن عيينة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہاں سفیان سے مراد "سفیان بن عیینہ" ہیں۔
وأخرجه أبو نعيم في "حلية الأولياء" 1/ 334 - 335، و"معرفة الصحابة" (4137) من طريق محمد ابن إسحاق أبي العبّاس السراج، عن محمد بن الصباح ومحمد بن ميمون، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابونعیم نے "الحلیہ" (1/ 334) اور "معرفة الصحابہ" (4137) میں ابو العباس السراج کے طریق سے محمد بن الصباح اور محمد بن میمون کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه مختصرًا البخاريّ (4664) عن عبد الله بن محمد، عن سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد. وأخرجه مطولًا البخاري أيضًا (4665) من طريق حجاج بن محمد الأعور، عن ابن جريج، به. وأخرجه بنحوه (4666) من طريق عمر بن سعيد، عن ابن أبي مليكة.
📖 حوالہ / مصدر: امام بخاری نے اسے مختصراً (4664) میں عبداللہ بن محمد سے اور تفصیلاً (4665) میں حجاج بن محمد کے واسطے سے ابن جریج سے روایت کیا ہے۔ رقم (4666) پر بھی یہ عمر بن سعید کے طریق سے مروی ہے۔
(3) هو الحسين بن محمد بن زياد نفسه المذكور في الإسناد.
🔍 فنی نکتہ / علّت: اس سے مراد وہی "حسین بن محمد بن زیاد" ہیں جن کا تذکرہ اوپر سند میں ہوا ہے۔