🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
843. إهانة الحجاج أسماء رضي الله عنها
حجاج کا سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کی توہین کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6477
حدثنا علي بن حَمْشاذَ، حدثنا هشام بن علي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا صاعد بن مُسلم اليَشكُري، قال: سمعت الشَّعْبي يقول: بَعَثَ عبدُ الملك بن مروان برأس عبد الله بن الزُّبير إلى ابن خازمٍ بخُراسانَ، فكفَّنه وصلَّى عليه. قال: فقال الشعبيُّ: أخطأَ، لا يُصلِّى على الرأس (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6341 - صاعد بن مسلم اليشكري واه
شعبی کہتے ہیں: عبدالملک بن مروان نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا سر مبارک خراسان میں ابن حازم کے پاس بھیجا، اس نے آپ کے سر کو کفن دیا اور اس کی نماز جنازہ پڑھی، شعبی کہتے ہیں: اس نے خطا کی ہے۔ سر کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جاتی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6477]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6477 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف بمرّة من أجل صاعد بن مسلم، ووهّاه الذهبي في "تلخيصه" وفي "تاريخ الإسلام" 3/ 893، وانظر ترجمته في"الجرح والتعديل" 4/ 453.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "شدید ضعیف" ہے کیونکہ اس میں صاعد بن مسلم نامی راوی ہے، 🔍 فنی نکتہ / علّت: صاعد بن مسلم کو امام ذہبی نے اپنے "تلخیص" اور "تاریخ الاسلام" 3/ 893 میں انتہائی واہی (کمزور) قرار دیا ہے۔ اس کے حالات کے لیے دیکھیے "الجرح والتعدیل" از ابن ابی حاتم، جلد 4، صفحہ 453۔
وابن خازم المذكور: هو عبد الله بن خازم بن أسماء السُّلمي أمير خراسان، وكان مواليًا لابن الزبير، وانظر ترجمته في "تاريخ الإسلام" 2/ 829.
🔍 فنی نکتہ / علّت: متن میں مذکور "ابن خازم" سے مراد عبد اللہ بن خازم بن اسماء السُّلمی ہیں جو کہ امیرِ خراسان تھے اور حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے حامیوں میں سے تھے۔ 📖 حوالہ / مصدر: ان کے حالات کے لیے دیکھیے "تاریخ الاسلام" از ذہبی، جلد 2، صفحہ 829۔