المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
880. ذكر سهل بن سعد الساعدي رضي الله عنه
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدیث نمبر: 6583
حدثني محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثني مُصعَب بن عبد الله الزُّبَيري، حدثني أبي، عن قُدَامة بن إبراهيم بن محمد ابن حاطِبٍ قال: رأيت الحجَّاجَ بن يوسف يَضرِبُ عبّاس بنَ سهل بن سعد في إمْرَة ابن الزُّبير، فاطَّلَعَ سهلٌ وهو في إزارٍ ورداءٍ له أصفرَ، فلما أقبل أشارَ الحجَاجُ بالكَفِّ عن ابنه (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6440 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6440 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
قدامہ بن ابراہیم بن محمد بن حاطب فرماتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی امارت میں، میں نے دیکھا ہے کہ حجاج بن یوسف سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عباس کو مار رہا تھا، سیدنا سہل کو اطلاع ملی تو وہ ایک تہبند باندھے ہوئے اور ایک زرد رنگ کی چادر لپیٹے ہوئے وہاں آ گئے، جب آپ وہاں پہنچے تو حجاج نے ان کو بیٹے تک پہنچنے سے روک دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6583]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6583 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده حسن من أجل عبد الله بن مصعب الزبيري وقدامة بن إبراهيم.
⚖️ درجۂ حدیث: عبد اللہ بن مصعب الزبیری اور قدامہ بن ابراہیم کی وجہ سے یہ سند "حسن" ہے۔
وأخرجه ابن حبان (7287) عن أحمد بن علي بن المثنى أبي يعلى، عن مصعب بن عبد الله بن مصعب، بهذا الإسناد. وذكر الحديث بتمامه، وفيه ذكر سهل: أنَّ رسول الله ﷺ أوصى أن يُحسَن إلى مُحسِن الأنصار، ويُعفَى عن مُسيئهم.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (7287) نے امام ابو یعلیٰ (احمد بن علی بن المثنیٰ) کے واسطے سے، انہوں نے مصعب بن عبد اللہ بن مصعب سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی ہے جس میں حضرت سہل بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وصیت فرمائی کہ انصار کے نیکوکاروں کے ساتھ بھلائی کی جائے اور ان کے خطاکاروں سے درگزر کیا جائے۔