المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
891. كان النبى يحب عقيلا لحبين
نبی کریم ﷺ کا سیدنا عقیل رضی اللہ عنہ سے دو وجوہ سے محبت کرنا
حدیث نمبر: 6606
أخبرنا أبو محمد الحسنُ بن محمد بن يحيى بن الحسن ابنُ أخي أبي طاهرٍ العَقِيقيّ، حدثني جدِّي يحيى بن الحسن، حدثني عَبْد الله بن عُبيد الله الطَّلْحي، حدثنا أَبي، حدثني يحيى بن محمد بن عبَّاد بن هانئ الشَّجَري، عن محمد بن إسحاق، حدثني ابن أبي نَجِيح، عن مجاهد بن جَبر أبي الحجَّاج: كان من نِعَمِ الله على عليِّ ابن أبي طالب ما صَنَعَ الله له وأرادَه به من الخير؛ أنَّ قريشًا أصابتهم أزمةٌ شديدةٌ، وكان أبو طالب في عِيالٍ كثير، فقال رسول الله ﷺ لعِّمه العبّاس، وكان من أيسَرِ بني هاشم:"يا أبا الفَضْل، إنَّ أخاك أبا طالبٍ كثيرُ العِيَال، وقد أصاب الناسَ ما تَرَى من هذه الأَزْمة، فانطَلِقْ بنا إليه نُخفِّفْ عنه من عيالِه، أَخُذُ من بَنيه رجلًا وتأخذُ أنت رجلًا، فنكفُلُهما عنه" فقال العبّاس: نعم، فانطَلَقا حتى أتَيا أبا طالبٍ فقالا: إنا نريدُ أن نُخفِّفَ عنك من عِيالِك حتى يَنكشِفَ عن الناس ما هم فيه، فقال لهما أبو طالب: إذا تركتُما لي عَقيلًا فاصنَعَا ما شئتُما، فَأَخَذَ رسول الله ﷺ عليًّا فضَمَّه إليه، وأَخَذَ العبّاس جعفرًا فضَمَّه إليه، فلم يَزَلْ عليٌّ مع رسول الله ﷺ حتى بَعَثَه الله نبيًّا فَاتَّبَعَه وصَدَّقه، وأخذ العبّاس جعفرًا، ولم يَزَلْ جعفرٌ مع العباس حتى أسلمَ واستَغْنى عنه (1) .
مجاہد بن جبرابی الحجاج فرماتے ہیں: سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ پر اللہ تعالیٰ کے فضائل میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ احسان فرمایا، قریش پر شدید قحط سالی آ گئی، اور ابوطالب کثیرالعیال تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ پورے بنی ہاشم میں آسودہ حال تھے، حضور نے اپنے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابوالفضل آپ کے بھائی ابوطالب کے اہل و عیال زیادہ ہیں، اور جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ لوگ بیچارے قحط سالی کا شکار ہیں، آپ ہمارے ساتھ چلئے، ہم ابوطالب کے ساتھ تعاون کرتے ہیں، ان کا ایک بچہ میں اپنی کفالت میں لوں گا اور ایک بچہ آپ اپنی کفالت میں لے لیں۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے حامی بھر لی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو ہمراہ لے کر ابوطالب کے گھر تشریف لے گئے، اور ان سے کہا: ہم آپ کے بچوں کے معاملے میں آپ پر آسانی کرنا چاہتے ہیں۔ تاکہ اس وقت لوگ جس پریشانی میں مبتلا ہیں، آپ اس سے نکل سکیں۔ سیدنا ابوطالب نے ان سے کہا: آپ لوگ عقیل کو میرے پاس رہنے دو اور باقی بچوں کے بارے میں جو تمہاری مرضی ہو، میں راضی ہوں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی کو اپنے ذمے لے لیا اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ لے لیا۔ اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ مسلسل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہی رہے، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبی بنایا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور پیروی کی۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کو لیا، اور سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ مسلسل سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس ہی رہے حتیٰ کہ وہ مسلمان ہو گئے، اور ان سے مستغنی ہو گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6606]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6606 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لضعف يحيى بن محمد بن عباد الشجري ومَن دونه؛ إلَّا أنهم توبعوا عن محمد بن إسحاق صاحب السيرة، لكن تبقى علَّة الخبر إرساله، فإنَّ مجاهد بن جبر تابعي ولم يبيّن ممن سمع هذا الخبر.
⚖️ درجۂ حدیث: یحییٰ بن محمد الشجری اور ان کے نچلے راویوں کے ضعف کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اگرچہ محمد بن اسحاق (صاحبِ سیرت) سے ان کی متابعت موجود ہے، مگر اس روایت کی اصل علت اس کا "مرسل" ہونا ہے، کیونکہ مجاہد بن جبر تابعی ہیں اور انہوں نے واضح نہیں کیا کہ یہ خبر کس سے سنی۔
فقد رواه كرواية المصنف الطبري في "تاريخه" 2/ 313 عن محمد بن حميد الرازي، عن سلمة ابن الفضل، عن محمد بن إسحاق، به.
📖 حوالہ / مصدر: مصنف کی روایت کی طرح امام طبری نے بھی اپنی "تاریخ" (2/ 313) میں محمد بن حمید الرازی عن سلمہ بن الفضل عن محمد بن اسحاق کے طریق سے اسے روایت کیا ہے۔
وأخرجه البيهقي في "الدلائل" 2/ 161 - 162 من طريق عمار بن الحسن، عن سلمة بن الفضل، به مختصرًا دون قصة جعفر وعقيل.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی نے "الدلائل" (2/ 161-162) میں عمار بن الحسن کے طریق سے سلمہ بن الفضل سے اختصار کے ساتھ روایت کیا ہے، جس میں حضرت جعفر اور عقیل کا قصہ موجود نہیں ہے۔
ورواه بتمامه أيضًا زياد البكّائي عن ابن إسحاق كما في "سيرة ابن هشام" 1/ 246.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مکمل طور پر زیاد البکائی نے ابن اسحاق سے روایت کیا ہے جیسا کہ "سیرت ابن ہشام" (1/ 246) میں ہے۔