المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
897. دعوة بجير إلى أخيه كعب للإسلام
سیدنا بجیر رضی اللہ عنہ کی اپنے بھائی سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کو اسلام کی دعوت اور سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کا اسلام قبول کرنا اور قصیدہ بانت سعاد
حدیث نمبر: 6621
وحدَّثَنا القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا إبراهيم بن المنذِر، حدثني مَعْن بن عيسى، حدثني محمد بن عبد الرحمن الأوقَصُ، عن ابن جُدْعانَ قال: أنشَدَ كعبُ بن زهير بن أبي سُلْمى رسولَ الله ﷺ في المسجد: بانَتْ سعادُ فقَلْبي اليومَ متبولُ … مُتيَّمٌ عندَها لم يُفدِ مغلولُ (1)
ابن جدعان کہتے ہیں: سیدنا کعب بن زہیر بن ابی سلمی نے مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے (قصیدہ پڑھا جس کے اشعار میں سے یہ بھی تھا): بَانَتْ سُعَادُ فَقَلْبِي الْيَوْمَ مَتْبُولُ ... مُتَيَّمٌ عِنْدَهَا لَمْ يُفْدَ مَكْبُولُ * سعاد نے جدائی اختیار کر لی ہے جس کی وجہ سے میرا دل بے چین ہے اس کے بعد نہایت ذلت ہے اور اس قیدی کا فدیہ نہیں دیا جا سکتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6621]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6621 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لضعف ابن جُدعان: وهو علي بن زيد بن عبد الله بن جدعان، وروايته هذه مرسلة، ومحمد بن عبد الرحمن الأوقص فيه ضعف أيضًا، وكذا شيخ المصنف عبد الرحمن ابن الحسن القاضي إلَّا أنه قد توبع.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ابنِ جدعان (یعنی علی بن زید بن عبد اللہ بن جدعان) کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے، مزید یہ کہ ان کی یہ روایت مرسل ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی سند میں محمد بن عبد الرحمن الاوقص بھی ضعیف ہیں، اور اسی طرح مصنف کے شیخ عبد الرحمن بن حسن قاضی میں بھی ضعف ہے، البتہ ان کی متابعت موجود ہے۔
فقد أخرجه الفاكهي في "أخبار مكة" (634) عن أحمد بن محمد القرشي، عن إبراهيم بن المنذر، بهذا الإسناد. وقال فيه: في المسجد الحرام!
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام فاکہی نے "اخبار مکہ" (634) میں احمد بن محمد القرشی عن ابراہیم بن منذر کی سند سے روایت کیا ہے، اور اس میں یہ الفاظ ہیں: "مسجدِ حرام میں!"۔