المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
902. ذكر أخيه رافع بن عمرو المزني رضى الله عنه
ان کے بھائی سیدنا رافع بن عمرو مزنی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدیث نمبر: 6629
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا عَبْدان الأَهْوازي، حدثنا زيد بن الحَرِيش، حدثنا حَشرَجُ بن عبد الله بن حَشرَج، حدثني أَبي، عن أبيه، عن عائذ بن عَمرو المُزَني قال: أصابني رَمْيَةٌ وأنا أقاتلُ بين يَدَي رسولِ الله ﷺ يومَ حُنَين في وجهي، فلمّا سالتِ الدماءُ على وجهي ولحيتي وصَدْري تَناوَلَ النبيُّ ﷺ فسَلَتَ الدمَ عن وجهي وصدري إلى ثَندُوَتيَّ، ثم دعا لي. قال حَشرجٌ: فكان يخبرنا بذلك عائدٌ في حياته، فلمَّا هَلَكَ وعَسَّلناه نَظَرْنا إلى ما كان يَصِفُ لنا من أثَر يدِ رسول الله ﷺ إلى مُنتَهى ما كان يقولُ لنا من صدرِه، وإذا غُرَّةٌ سائلةُ كغُرَّة الفَرَس (2) . ذكر أَخيه رافع بن عمرو المُزَني ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6486 - إسناده فيه مجهولان
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6486 - إسناده فيه مجهولان
عائذ بن عمرو المزنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنگ حنین کے موقع پر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جنگ میں مصروف تھا، ایک تیر آ کر میرے چہرے پر لگا، جب خون بہتا ہوا میرے چہرے، داڑھی اور سینے کو رنگین کر گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے دست مبارک سے میرا خون صاف کیا اور میرے لئے دعا فرمائی۔ اس حدیث کے راوی حشرج فرماتے ہیں: سیدنا عائذ اپنی زندگی میں یہ واقعہ بیان کیا کرتے تھے، جب ان کا انتقال ہوا، ہم نے ان کو غسل دیا تو ان کے بتائے ہوئے واقعہ کے مطابق ہم نے ان کے چہرے، داڑھی، سینے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کا اثر دیکھا، گھوڑے کی پیشانی پر سفیدی کی طرح ان کے اعضاء پر دست رسول کی برکت سے ایک عجیب سی چمک دکھاتی دیتی تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6629]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6629 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف لجهالة حشرج بن عبد الله وأبيه وجدّه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند حشرج بن عبد اللہ، ان کے والد اور ان کے دادا کی جہالت کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" (18/ 32)، ومن طريقه الضياء في "المختارة" 8/ (284) عن أحمد ابن زيد بن الحريش، عن أبيه زيد بن الحريش، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الکبیر" 18/ 32 میں اور ان کے واسطے سے ضیاء مقدسی نے "المختارہ" 8/ (284) میں احمد بن زید بن الحریش عن زید بن الحریش کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الروياني في "مسنده" (774)، والطبراني (18 / (32)، ومن طريقه الضياء (283) و (285) من طرق عن حشرج بن عبد الله، به، وتحرَّف حشرج في "المختارة" (283) إلى: جعفر.
📖 حوالہ / مصدر: اسے رویانی نے اپنی "مسند" (774)، طبرانی نے "الکبیر" (18/ 32) اور ضیاء مقدسی نے (283، 285) میں حشرج بن عبد اللہ کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: "المختارہ" (283) میں حشرج کا نام تحریف ہو کر "جعفر" ہو گیا ہے۔