المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
906. ذكر عتبان بن مالك الأنصاري رضي الله عنه
سیدنا عتبان بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدیث نمبر: 6639
أخبرَناه أبو الحسين بن تَميم الحَنظَلي، حدثنا أبو إسماعيل، حدثنا أبو الأسوَد النَّضْر بن عبد الجبّار، حدثنا ابن لَهِيعة، عن أبي الزُّبير، عن جابر، عن النعمان بن قَوقَل: أنه جاءَ إلى رسول الله ﷺ، فقال: يا رسولَ الله، أرأيت إذا صلَّيتُ المكتوبةَ، وصمتُ رمضانَ، وأَحللتُ الحلالَ، ولم أَزِدْ على ذلك، أَدخُلُ الجنةَ؟ قال:"نَعَم" قال: واللهِ لا أزيدُ على ذلك شيئًا (3) . ذكرُ عِتْبان بن مالك الأنصاري ﵁-
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ، سیدنا نعمان بن قوقل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر میں صرف فرض نمازیں ادا کروں، رمضان کے روزے رکھوں، حلال کو حلال سمجھوں اور حرام کو حرام سمجھوں، اس سے زیادہ کوئی عمل نہ کروں، کیا اس بناء پر میں جنت میں جا سکتا ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس پر کوئی چیز زیادہ نہیں کروں گا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6639]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6639 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد فيه ضعف من أجل عبد الله بن لَهِيعة، ففي حفظه سُوء، لكنه متابع. أبو إسماعيل: هو محمد بن إسماعيل السُّلمي الترمذي الحافظ، وأبو الزبير: هو محمد ابن مسلم بن تَدُرس المكي.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی سند میں عبد اللہ بن لہیعہ کے حافظے کی کمزوری کی وجہ سے ضعف ہے، مگر ان کی متابعت موجود ہے۔ 📌 اہم نکتہ: ابو اسماعیل سے مراد محمد بن اسماعیل السلمی الترمذی اور ابو الزبیر سے مراد محمد بن مسلم بن تدرس مکی ہیں۔
وأخرجه أحمد 23/ (14747) عن موسى بن داود الضبي، عن ابن لَهِيعة، بهذا الإسناد عن جابر: أنَّ نعمان بن قوقل جاء رسولَ الله ﷺ، فذكره. فالحديث حديث جابر يحكي قصة سؤال النعمان للنبي ﷺ. وكذلك أخرجه مسلم (15) (18) من طريق معقل بن عبيد الله الجزري، عن أبي الزبير به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (14747) میں ابن لہیعہ کی سند سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نعمان بن قوقل نبی ﷺ کی بارگاہ میں آئے۔ 📌 اہم نکتہ: یہ اصل میں حضرت جابر کی حدیث ہے جو نعمان کے سوال کا قصہ بیان کرتی ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم نے بھی اپنی "صحیح" (15، 18) میں معقل بن عبید اللہ الجزری عن ابی الزبیر کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 22 / (14394)، ومسلم (15) (16) و (17) من طريق الأعمش، عن أبي سفيان طلحة بن نافع، عن جابر قال: أتى النبيَّ ﷺ النعمانُ بن قوقل … وقرن مسلم في الموضع الثاني بأبي سفيان أبا صالح السمّان.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 22 / (14394) اور امام مسلم نے اپنی صحیح (15، 16، 17) میں الاعمش عن ابی سفیان طلحہ بن نافع عن جابر کی سند سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس نعمان بن قوقل آئے۔ 📝 نوٹ / توضیح: امام مسلم نے دوسرے مقام پر ابوسفیان کے ساتھ ابوصالح السمان کو بھی (متابعت میں) ذکر کیا ہے۔
وفي الباب عن أبي هريرة عند البخاري (1397)، ومسلم (14)، وهو في "مسند أحمد" 14 / (8515)، وانظر تتمة شواهده هناك.
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مروی ہے جو صحیح بخاری (1397) اور صحیح مسلم (14) میں موجود ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت "مسند احمد" 14 / (8515) میں بھی ہے، مزید شواہد کے لیے وہاں رجوع کریں۔