المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
918. استخلاف النبى أبا رهم على المدينة
نبی کریم ﷺ کا سیدنا ابو رہم رضی اللہ عنہ کو مدینہ کا قائم مقام مقرر کرنا
حدیث نمبر: 6660
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا موسى بن زكريا، حدثنا خليفة بن خيَّاط: قال أبو رُهْم اسمه كُلْثومُ بن حُصَين بن خالد بن مُعَيسِير (1) بن بَدْر بن أَحْمَسَ بن غِفار، ويقال: كُلْثوم بن حِصْن بن عُتْبة (2) بن خالد. استَخلَفَه رسولُ الله ﷺ على المدينة لما خَرَجَ لفَتْح مكَّة (3) .
خلیفہ بن خیاط فرماتے ہیں: ابورہم رضی اللہ عنہ کا نام ” کلثوم بن حصین بن عبید بن خالد بن معیسیر بن بدر بن احمس بن غفار “ ہے۔ بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ ان کا نام ” کلثوم بن حصین بن عبید بن خالد “ ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے لئے روانہ ہوئے تو ان کو مدینہ منورہ میں نائب مقرر فرمایا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6660]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6660 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في (م) و (ب) إلى: معيس، وفي (ص) إلى: قيس. والمثبت من "طبقات خليفة" ص 32، وكذا هو في "تهذيب الكمال" 24/ 204، وفي "الاستيعاب" لابن عبد البر ص 805 و "الإصابة" لابن حجر 7/ 441: معيسر، بلا ياء ثانية.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (م) اور (ب) میں اس نام میں "معیس" اور نسخہ (ص) میں "قیس" کی تحریف ہوئی ہے۔ متن میں درست نام "طبقات خلیفہ" ص 32 اور "تہذیب الکمال" 24/ 204 کی روشنی میں درج کیا گیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: ابن عبد البر کی "الاستيعاب" ص 805 اور ابن حجر کی "الإصابة" 7/ 441 میں یہ نام دوسری "یاء" کے بغیر "معيسر" درج ہے۔
(2) في النسخ الخطية: حصين بن عبيد، والغالب على الظن أنه تحريف، والمثبت من "طبقات خليفة" وكذا هو في "تهذيب الكمال" للمزي.
🔍 فنی نکتہ / علّت: خطی نسخوں میں "حصین بن عبید" لکھا ہے، مگر غالب گمان یہی ہے کہ یہ تحریف ہے؛ لہٰذا درست نام "طبقات خلیفہ" اور امام مزی کی "تہذیب الکمال" کے مطابق درج کیا گیا ہے۔
(3) واستخلفه أيضًا في عمرة القضاء وغزوة خيبر كما في تاريخ خليفة" ص 97.
📌 اہم نکتہ: نبی کریم ﷺ نے انہیں "عمرہ القضاء" اور "غزوہ خیبر" کے موقع پر بھی (مدینہ میں) اپنا قائم مقام مقرر فرمایا تھا، جیسا کہ "تاریخ خلیفہ" ص 97 میں مذکور ہے۔