المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
920. ذكر آية الساعة
قیامت کی نشانیوں سے متعلق آیت کا بیان
حدیث نمبر: 6663
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مُصعَب بن عبد الله الزُّبَيري قال: حُذَيفةُ بن أَسِيد بن الأَعْوَص (3) ابن واقعةَ بن حَرَام بن غِفَار، وقيل: ابن أَسِيد بن خالد بن الأغوَص، يُكنَى أبا سَرِيحةَ، تحوَّل من المدينة إلى الكوفة وبها مات.
مصعب بن عبداللہ زبیری ان کا نسب یوں بیان کرتے ہیں: حذیفہ بن اسید بن اغوس بن واقعہ بن حرام بن غفار “ بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ آپ ” اسید بن خالد بن اغوز “ کے بیٹے ہیں۔ ان کی کنیت ” ابوسریحہ “ تھی، آپ مدینہ منورہ سے کوفہ شریف میں منتقل ہو گئے تھے۔ وہیں پر ان کا انتقال ہوا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6663]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6663 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) هكذا في النسخ الخطية في الموضعين، والذي في مصادر ترجمته: الأَغوس، بالسين، ويقال أيضًا: الأَغوز، بالزاي.
🔍 فنی نکتہ / علّت: خطی نسخوں میں دونوں جگہ اسی طرح ہے، مگر تراجم کی کتب میں درست نام "الأَغوس" (سین کے ساتھ) ہے، اور اسے "الأَغوز" (زاء کے ساتھ) بھی کہا جاتا ہے۔