🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
921. ذكر عتاب بن أسيد الأموي رضى الله عنه
سیدنا عتاب بن اسید اموی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6667
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا الحسن بن علي بن نَصْر، حدثنا الزُّبير بن بكّار القاضي، حدثنا حسين بن سعيد بن هاشم بن سعيد من بني قيس بن ثَعلَبة، حدثني يحيى بن سعيد بن سالم القَدَّاحُ، عن أبيه، عن ابن جُرَيج، عن عطاء، عن ابن عبّاس قال: قال رسول الله ﷺ ليلةَ قُرْبِه من مكة فِي غَزْوة الفَتْح:"إنَّ بمكة لأربعة نَفَرٍ من قريشٍ أَربَأُ بهم عن الشِّرك، وأَرغَبُ بهم في الإسلام" قيل: ومَن هم يا رسول الله؟ قال:"عتّابُ بن أَسِيدٍ وجُبَيرُ بن مُطْعِمٍ وحَكيمُ بن حِزامٍ وسُهَيل بن عَمْرو" (1) .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: غزوہ فتح مکہ کے موقع پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے بالکل قریب پہنچ چکے تھے، فرمایا: مکہ میں چار قریشی آدمی ہیں، ان کو شرک سے بہت دور اور اسلام بہت قریب تھے، صحابہ کرام نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ، جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ، حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ، سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6667]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6667 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف، حسين بن سعيد بن هاشم مجهول لم نقف له على ترجمة ويحيى بن سعيد القداح ليس بالقوي كما قال الدارقطني كما في ترجمته من "لسان الميزان" 8/ 443، وقال الذهبي في "الميزان": له مناكير.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: حسین بن سعید بن ہاشم مجہول راوی ہے جس کے حالاتِ زندگی ہمیں نہیں مل سکے، جبکہ یحییٰ بن سعید القداح قوی نہیں ہے جیسا کہ امام دارقطنی نے کہا ہے (لسان المیزان 8/ 443)۔ امام ذہبی نے "المیزان" میں لکھا ہے کہ اس کی مروی روایات منکر ہوتی ہیں۔
والخبر في "جمهرة نسب قريش" للزبير بن بكار ص 362 - 363، ومن طريقه أخرجه أيضًا ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 15/ 106. وفيه عن ابن جريج عن عطاء -وهو ابن أبي رباح- قال: لا أحسبه إلّا رفعه إلى ابن عبّاس قال: قال رسول الله ﷺ …
📖 حوالہ / مصدر: یہ خبر زبیر بن بکار کی "جمهرة نسب قريش" ص 362-363 میں موجود ہے، اور انہی کے طریق سے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" 15/ 106 میں اسے روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: اس میں ابن جریج عن عطاء (بن ابی رباح) کی سند ہے، وہ کہتے ہیں: میرا گمان یہی ہے کہ انہوں نے اسے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے رسول اللہ ﷺ تک مرفوعاً بیان کیا ہے۔