🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
939. ذكر سلمان بن عامر الضبي رضى الله عنه
سیدنا سلمان بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6703
حدثنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه إملاءً، حدثنا هلال العلاء بن الرَّقِّي، حدثنا عثمان بن عبد الرحمن الوقَّاصي، عن محمد بن كعب القُرَظي، قال: بَيْنا عمرُ بن الخطاب قاعدٌ في المسجد إذ مرَّ رجلٌ في مُؤخَّر المسجد، فقال رجلٌ: يا أميرَ المؤمنين، أتعرِفُ هذا المارَّ؟ قال: لا، فمن هو؟ قال: سَواد بن قارِب، وهو رجلٌ من أهل اليمن من بيتٍ فيهم شَرَف وموضِعٌ، وهو الذي أتاه رَئيُّه بظهور النبيِّ ﷺ فقال عمر: عليَّ به، فدُعِي به فقال: أنتَ سَوادُ بن قارب؟ قال: نعم، قال: فأنت الذي أتاك رئيُّك بظُهور رسول الله ﷺ؟ قال: نعم، قال: فأنت على ما كنتَ عليه من كِهانتِك (1) ؟ فغضب غضبًا شديدًا، وقال: يا أمير المؤمنين، ما استقبلني بهذا أحدٌ منذ أسلمتُ، فقال عمر: يا سبحانَ الله! والله ما كنَّا عليه من الشِّرك أعظمُ ممّا كنتَ عليه من كهانتك، أخبرني بإتيانك رَئيُّك بظُهورِ رسول الله ﷺ، قال: نعم يا أميرَ المؤمنين، بَينا أنا ذاتَ ليلة بين النائم واليقظان إذ أتاني رَئِيٌّ فضربني برجله، وقال قُمْ يا سَوادَ بنَ قاربٍ، فافهَمْ واعقِلْ إن كنتَ تعقِلُ، إنه قد بُعِث رسولُ الله ﷺ من لُؤي بن غالب يدعو إلى الله وإلى عبادتِه، ثم أنشأَ يقول: عَجبتُ للجِنِّ وتَجْساسِها … وشَدِّها العِيسَ بأحلاسِها تَهوِي إلى مكةَ تَبْغي الهُدَى … ما خَيِّرُ الجنِّ كأنجاسِها فارحَلْ إلى الصَّفْوة من هاشمٍ … واسمُ بعَيَنيْكَ إلى راسِها قال: فلم أرفَعْ بقوله رأسًا، وقلتُ: دعني أنَمْ، فإني أمسيتُ ناعسًا، فلما أن كانت الليلةُ الثانية أتاني فضربَني برجلِه، وقال: ألم أقُلْ لك يا سوادَ بنَ قارب: قُمْ فافهَمْ واعقِلْ إن كنتَ تعقلُ؟! قد بُعِثَ رسولٌ من لُؤَي بن غالب، يدعو إلى الله وإلى عبادتِه، ثم أنشأ الجنِّيُّ يقول: عَجبتُ للجِنِّ وتَطْلابِها (2) … وشَدِّها العِيسَ بأقْتابِها تَهوْي إلى مكةَ تَبْغي الهُدى … ما صادقُ (1) الجنِّ ككَذَّابِها فارحَلْ إلى الصَّفوةِ من هاشمٍ … بينَ زَواياها وحُجَّابِها قال: فلم أرفَعْ بقوله رأسًا، فلما أن كان الليلةُ الثالثة أتاني فضربَني برجلِه، وقال: ألم أقلُ لك يا سوادَ بنَ قارب: افهَمْ واعقِلْ إن كنتَ تَعقِل (2) ؟! أنه قد بُعث رسولُ الله من لؤي بن غالب، يدعو إلى الله وإلى عبادتِه، ثم أنشأَ يقول: عجبتُ للجِنِّ وأخبارِها … وشدِّها العِيسَ بأكْوارِها تَهوِي إلى مكةَ تَبْغي الهُدَى … ما مُؤمنو الجنِّ ككفَّارِها فارحَلْ إلى الصَّفوةِ من هاشمٍ … ليس قُدَامَاها كأدبارِها قال: فوقع في نفسي حبُّ الإسلام ورغبتُ فيه، فلما أصبحتُ شَدَدتُ على راحلتي فانطلقت متوجهًا إلى مكة، فلما كنتُ في بعض الطريق أُخبرتُ أنَّ النبيَّ ﷺ قد هاجر إلى المدينة، فأتيتُ المدينة فسألتُ عن النبيِّ ﷺ، فقيل لي: في المسجد، فانتهيتُ إلى المسجد، فعَقَلتُ ناقتي ودخلتُ، وإذا رسولُ الله ﷺ والناسُ حولَه، فقلتُ: اسمع مَقَالتي يا رسولَ الله، فقال أبو بكر: ادُنْه، فلم يَزَلْ حتى صِرتُ بين يديه، قال:"هاتِ، فأخبِرْني بإتيانِك رَئيُّك" فقلتُ: أتاني نَجِيِّي (3) بعد هَدْءٍ ورَقْدةٍ … ولم يكُ فيما قد بَلَوتُ بكاذبِ ثلاثَ ليالٍ قولُه كلَّ ليلةٍ … أتاك رسولٌ من لؤيِّ بن غالبِ فشمَّرتُ من ذَيلي الإزارَ ووسَّطَتْ … بِيَ الذَّعَلِبُ الوَجْناءُ بينَ السَّباسبِ فأشهدُ أنَّ الله لا ربَّ غيرُهُ … وأنَّك مأمونٌ على كلِّ غائبِ وأنَّك أدنَى المُرسلينَ وَسيلةً … إلى الله يا ابنَ الأكرمينَ الأطايبِ فمُرْنا بما يأتيك يا خيرَ مَن مَشَى … وإن كان فيما جاءَ شَيْبُ الذُّوائبِ وكنْ لي شفيعًا يومَ لا ذو (1) شَفاعةٍ … سِواكَ بِمُعْن عن سَوَادِ بنِ قاربِ ففَرِحَ رسولُ الله وأصحابُه بإسلامي فرحًا شديدًا حتى رُئِيَ في وجوههِم، قال: فوَثَبَ عمرُ فالتزمه، وقال: قد كنتُ أُحِبُّ أن أسمعَ هذا منك (2) ذكرُ سَلْمان بن عامر الضَّبيِّ ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6558 - الإسناد منقطع
محمد بن کعب قرظی فرماتے ہیں: ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی مسجد کے دوسری جانب سے گزرا، ایک آدمی نے کہا: اے امیرالمومنین! آپ اس گزرنے والے کو پہچانتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ یہ کون ہے؟ اس آدمی نے کہا: یہ سواد بن قارب ہے۔ یہ یمنی باشندہ ہے، یہ اپنے علاقے کے معزز خاندان کا آدمی ہے، اس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کی پیشین گوئی کی تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کو میرے پاس بلا کر لاؤ، اس آدمی کو بلایا گیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: کیا تم سواد بن قارب ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: کیا تمہی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کی پیشین گوئی کی تھی؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: تم آج تک اسی کہانت پر قائم ہو، جس پر پہلے تھے، پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس پر بہت سخت غصہ ہوئے، اس نے کہا: اے امیرالمومنین! میں جب سے اسلام لایا ہوں مجھے اس طرح کسی نے سمجھایا ہی نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سبحان اللہ! تم تو کاہن تھے، ہم اسلام لانے سے پہلے تم سے بھی بڑے گناہ شرک میں مبتلا تھے۔ تم مجھے اپنی اس پیشین گوئی کا واقعہ سناؤ جو تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں دی تھی۔ وہ کہنے لگا: اے امیرالمومنین! ایک مرتبہ رات کے وقت میں نیند اور بیداری کی کشمکش میں تھا، ایک ناصح آیا اس نے اپنا پاؤں مجھے مار کر کہا: اے سواد بن قارب اگر تم عقل مند ہو تو خوب جان لو اور سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ کا رسول لؤی بن غالب کے قبیلے میں ظاہر ہو چکا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف اور اس کی عبادت کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے درج ذیل اشعار پڑھے۔ میں نے اس کی بات پر کان نہ دھرا، سر اوپر اٹھائے بغیر کہا کہ مجھے میرے حال پر چھوڑ دو، کیونکہ مجھے شام سے ہی بہت نیند آ رہی ہے، اگلی رات پھر یہی واقعہ ہوا، وہ آیا، اپنا پاؤں مار کر مجھے جگایا اور کہا: اے سواد! میں نے تمہیں کہا نہیں تھا کہ اٹھ جا اور اگر تجھے کچھ عقل ہے تو خوب سمجھ لے کہ لؤی بن غالب میں اللہ کا رسول ظاہر ہو چکا ہے وہ اللہ تعالیٰ اور اس کی عبادت کی دعوت دیتا ہے، اس کے بعد اس جن نے وہی کل والے اشعار دوبارہ پڑھے۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے اس مرتبہ اس کو کوئی جواب نہ دیا، وہ تیسری رات پھر آ گیا، پاؤں مار کر مجھے جگایا اور بولا: اے سواد! میں نے تجھے کہا نہیں تھا کہ اگر تجھے کچھ عقل اور سمجھ ہے تو خوب جان لے کہ لؤی بن غالب میں اللہ کا نبی ظاہر ہو چکا ہے وہ اللہ تعالیٰ اور اس کی عبادت کی دعوت دیتا ہے، اس کے بعد اس نے یہ اشعار کہے: اس کے بعد میرے دل میں اسلام کی محبت اور دلچسپی پیدا ہو گئی، صبح ہوتے ہی میں نے سواری تیار کی اور مکہ مکرمہ کی جانب روانہ ہو گیا، ابھی میں مکہ کے راستے ہی میں تھا کہ مجھے اطلاع ملی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کی جانب ہجرت کر گئے ہیں، چنانچہ میں بھی (مکہ کی بجائے) مدینہ شریف پہنچ گیا، میں نے وہاں پہنچ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں دریافت کیا تو مجھے بتایا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما ہیں، میں مسجد میں چلا گیا، میں نے مسجد سے باہر اپنی اونٹنی باندھی اور اندر آ گیا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد بیٹھے تھے۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری بات سنیے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہو جاؤ، میں قریب ہوتے ہوتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالکل سامنے پہنچ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے نصیحت گر کا واقعہ سناؤ، تب انہوں نے یہ اشعار کہے: * میری آنکھ لگنے کے بعد ایک سرگوشی کرنے والا میرے پاس آیا اور میں نے جو یہ سب کچھ دیکھا تھا اس میں کچھ بھی جھوٹ نہیں تھا۔ * وہ تین راتیں مسلسل میرے پاس آ کر کہتا رہا کہ تمہارا رسول لؤی بن غالب میں ظاہر ہو چکا ہے۔ * میں نے آنے کی تیاری کر لی اور تیز رفتار اونٹنی دشت و بیابان عبور کرتے ہوئے چلنے لگی۔ * میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور بے شک آپ ہر غالب سے محفوظ ہیں۔ * اے باعزت اور شریف لوگوں کے بیٹے، بیشک آپ کا مرتبہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمام رسولوں میں اعلیٰ ہے۔ * اے کائنات کے بہترین شخص، آپ جو پیغام لائے ہیں وہ ہمیں دیجئے، (ہم اس پر عمل کریں گے) اگرچہ اس میں ہماری زندگیاں صرف ہو جائیں۔ * اور جس دن کسی کی شفاعت نہیں چلے گی، اس دن آپ میری شفاعت کرنا اور سواد بن قارب کو اپنے دامن رحمت میں چھپا لینا۔ میرے اسلام لانے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بہت خوش ہوئے، خوشی کے آثار ان سب کے چہروں پر واضح دکھائی دے رہے تھے، سیدنا عمر اچھل کر مجھ سے چپک گئے اور کہنے لگے: میں یہ باتیں تمہاری زبان سے سننا چاہتا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6703]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6703 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) المثبت من (ب)، وفي (م) عليه منه من كهانتك، وفي (ص): عليه من قبل كهانتك.
🔍 فنی نکتہ / علّت: متن میں نسخہ (ب) کی عبارت لی گئی ہے، جبکہ نسخہ (م) میں "عليه منه من كهانتك" اور نسخہ (ص) میں "عليه من قبل كهانتك" کے الفاظ ہیں۔
(2) في (م) و (ص): وطلابها، والمثبت من (ب).
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (م) اور (ص) میں "وطلابها" ہے، جبکہ متن کے لیے نسخہ (ب) کو ترجیح دی گئی ہے۔
(1) في نسخنا الخطية: صدق، والمثبت من مصادر التخريج.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ہمارے قلمی نسخوں میں یہاں "صدق" لکھا ہے، لیکن دیگر کتبِ تخریج کی روشنی میں متن کی تصحیح کی گئی ہے۔
(2) المثبت من (م) و (ب)، وفي (ص): افهم إن كنت تفهم، واعقل إن كنت تعقل.
🔍 فنی نکتہ / علّت: متن نسخہ (م) اور (ب) کے مطابق ہے، جبکہ نسخہ (ص) میں یہ الفاظ زائد ہیں: "اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو سمجھو، اور اگر عقل رکھتے ہو تو عقل سے کام لو"۔
(3) المثبت من (ب)، وفي (م) و (ص): بحق.
🔍 فنی نکتہ / علّت: متن کے لیے نسخہ (ب) کو بنیاد بنایا گیا ہے، جبکہ نسخہ (م) اور (ص) میں "بحق" کے الفاظ ہیں۔
(1) سقط من (م) و (ص)، وفي (ب): ذي! والمثبت من المصادر.
🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ لفظ نسخہ (م) اور (ص) سے ساقط ہے، نسخہ (ب) میں "ذی" لکھا ہے، لیکن دیگر مصادر کے مطابق درست لفظ متن میں درج کر دیا گیا ہے۔
(2) إسناده ضعيف جدًا؛ عثمان بن عبد الرحمن الوقاصي متروك الحديث. وأعلَّه الذهبي في "التلخيص" بالانقطاع، يعني أنَّ محمدًا القرظي روايته عن عمر مرسلة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند سخت ضعیف (ضعیف جداً) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عثمان بن عبد الرحمن الوقاصی "متروک الحدیث" ہے۔ امام ذہبی نے "التلخیص" میں اسے انقطاع کی وجہ سے معلول قرار دیا ہے، یعنی محمد بن کعب القرظی کی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت "مرسل" (منقطع) ہے۔
وأخرجه أبو يعلى في "معجمه" (329) - ومن طريقه البيهقي في "الدلائل" 2/ 252 - 253، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 327 - 326 - وابن قانع في "معجم الصحابة" 1/ 296 - ومن طريقه المعافى بن زكريا في "الجليس الصالح" ص 224 - 226، وابن النجار في "ذيل تاريخ بغداد" 4/ 132 - 134 - والطبراني في الكبير (6475)، وفي "الأحاديث الطوال" (31)، وأبو نعيم في "دلائل النبوة" (62)، وفي "معرفة الصحابة" (3554)، والبيهقي في "الدلائل" 2/ 253 - 254 من طريق علي بن منصور الأبناوي، عن عثمان بن عبد الرحمن الوقّاصي، بهذا الإسناد. وتحرَّف في رواية أبي يعلى إلى محمد بن عثمان! وقال الذهبي في "تاريخ الإسلام" 1/ 594: عثمان بن عبد الرحمن متفق على تركه، وعلي بن منصور فيه جهالة، مع أنَّ الحديث منقطع.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو یعلیٰ نے "معجم" (329)، بیہقی نے "الدلائل" (2/ 252-253)، ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (326-327)، ابن قانع نے "معجم الصحابہ" (1/ 296)، معافی بن زکریا نے "الجلیس الصالح" (ص 224-226)، ابن النجار نے "ذیل تاریخ بغداد" (4/ 132-134)، طبرانی نے "الکبیر" (6475) اور "الاحادیث الطوال" (31)، اور ابو نعیم نے "دلائل النبوہ" (62) و "معرفۃ الصحابہ" (3554) میں علی بن منصور الابناوی کے طریق سے، انہوں نے عثمان بن عبد الرحمن الوقاصی سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو یعلیٰ کی روایت میں نام تحریف ہو کر "محمد بن عثمان" ہو گیا ہے۔ امام ذہبی نے "تاریخ الاسلام" (1/ 594) میں فرمایا کہ عثمان بن عبد الرحمن کے متروک ہونے پر اتفاق ہے، اور علی بن منصور مجہول ہے، مزید یہ کہ حدیث منقطع ہے۔
وأخرجه بنحوه البخاري في "التاريخ الكبير" 4/ 202، والبغوي في "معجم الصحابة" (1180)، والطبراني (6476)، وابن عدي في "الكامل" 2/ 210 - 211، وابن منده في "معرفة الصحابة" 2/ 804، وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (3553)، والبيهقي 2/ 253، وابن عساكر 72/ 320 - 321 و 321 - 322 من طريق الحكم بن يعلى بن عطاء المحاربي، عن عباد بن عبد الصمد، قال: سمعت سعيد بن جبير قال: أخبرني سواد بن قارب الأزدي قال: كنت نائمًا، فذكره. وقال البخاري عقبه: ولا يصح الحكم بن يعلى. قلنا: إسناده ضعيف جدًا؛ الحكم المحاربي متروك الحديث، وعباد بن عبد الصمد واهي الحديث.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے "التاریخ الکبیر" (4/ 202)، بغوی نے "معجم الصحابہ" (1180)، طبرانی (6476)، ابن عدی نے "الکامل" (2/ 210-211)، ابن مندہ نے "معرفۃ الصحابہ" (2/ 804)، ابو نعیم (3553)، بیہقی (2/ 253) اور ابن عساکر نے مختلف مقامات پر حکم بن یعلیٰ المحاربی کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام بخاری نے اس کے بعد فرمایا کہ حکم بن یعلیٰ کی روایت صحیح نہیں ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ سند سخت ضعیف ہے کیونکہ حکم المحاربی متروک ہے اور عباد بن عبد الصمد کی حدیث انتہائی واہی (گری ہوئی) ہے۔
وأخرجه ابن أبي خيثمة في السفر الثاني من "تاريخه" (1050)، والخرائطي في "هواتف الجانِّ" ص 27، وابن منده في "المعرفة" 2/ 803، وأبو نعيم في "المعرفة" (3551)، والبيهقي 2/ 248 - 249، وابن عساكر 72/ 316 - 19 و 319 - 320 من طريق محمد بن عمران بن محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن سعيد بن عبيد الله بن الوليد الوصافي، عن أبيه، عن أبي جعفر الباقر، قال: دخل سواد بن قارب على عمر بن الخطاب، فذكر نحوه وسعيد بن عُبَيد الله وأبوه ضعيفان.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی خیثمہ نے اپنی "تاریخ" (1050)، خرائطی نے "ہواتف الجان" (ص 27)، ابن مندہ (2/ 803)، ابو نعیم (3551)، بیہقی (2/ 248-249) اور ابن عساکر نے محمد بن عمران کے طریق سے روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند میں سعید بن عبید اللہ اور ان کے والد دونوں ضعیف ہیں۔
وأخرجه أبو نعيم في "المعرفة" (3552) من طريق الحسن بن عمارة، عن عبد الله بن عبد الرحمن، قال: دخل سواد بن قارب على عمر بن الخطاب، فذكر نحوه والحسن بن عمارة متروك.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو نعیم نے "المعرفہ" (3552) میں حسن بن عمارہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: ضعیف ہے، کیونکہ حسن بن عمارہ "متروک" راوی ہے۔
وأخرجه البيهقي 2/ 248 - 249 من طريق أحمد بن موسى الحمار الكوفي، عن زياد بن ماروية القصري، عن محمد بن تراس الكوفي، عن أبي بكر بن عيّاش، عن أبي إسحاق، عن البراء بن عازب، فذكر نحوه. وقال الذهبي في "تاريخ الإسلام" 1/ 593: هذا حديث منكر بالمرة، ومحمد ابن تراس وزياد مجهولان لا تقبل روايتهما، وأخاف أن يكون موضوعًا على أبي بكر بن عيّاش، ولكن أصل الحديث مشهور قلنا: زياد القصري ترجمه الخطيب في "تاريخه" 9/ 506، ونقل عن الدار قطني قوله فيه: ما علمت إلَّا خيرًا. وأما ابن تراس فلم نتبينه.
⚖️ درجۂ حدیث: امام ذہبی نے "تاریخ الاسلام" (1/ 593) میں فرمایا کہ یہ سرتا سر منکر حدیث ہے اور خدشہ ہے کہ یہ ابو بکر بن عیاش پر گھڑی گئی ہو (موضوع ہو)۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: محمد بن تراس اور زیاد مجهول ہیں۔ تاہم زیاد القصری کے بارے میں خطیب بغدادی نے دارقطنی کا قول نقل کیا ہے کہ "میں اس کے بارے میں خیر ہی جانتا ہوں"، لیکن ابن تراس کے حالات واضح نہیں ہیں۔ 📌 اہم نکتہ: اگرچہ یہ سند منکر ہے، لیکن حدیث کی اصل مشہور ہے۔
وأخرجه ابن شاهين -كما في "الإصابة" لابن حجر 4/ 530 - من طريق الفضل بن عيسى، عن العلاء بن زيدل، عن أنس بن مالك قال: دخل رجلٌ من دوس يقال له: سواد بن قارب على النبي ﷺ، فذكر القصة. وإسناده تالف لا يفرح به، الفضل بن عيسى -وهو الرقاشي- والعلاء ابن زيدل ساقطا الحديث.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "تالف" (تباہ شدہ/ناقابلِ اعتبار) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: فضل بن عیسیٰ الرقاشی اور علاء بن زیدل دونوں "ساقط الحدیث" (انتہائی غیر معتبر) ہیں۔
وقد صحَّ هذا الخبر مختصرًا، فقد روى البخاري في "صحيحه" (3866) من حديث عبد الله ابن عمر، قال: ما سمعتُ عمر لشيء قطُّ يقول: إني لأظنه كذا، إلَّا كان كما يظن؛ بينما عمر جالسٌ، إذ مرَّ به رجل جميل، فقال: لقد أخطأ ظني، أو إنَّ هذا على دينه في الجاهلية، أو لقد كان كاهنَهم، عليَّ الرجل، فدُعي له، فقال له ذلك، فقال: ما رأيتُ كاليوم استُقبل به رجل مسلم، قال: فإني أعزم عليك إلا ما أخبرتني، قال: كنتُ كاهنَهم في الجاهلية، قال: فما أعجبُ ما جاءتك به جنيَّتُك؟ قال: بينما أنا يومًا في السوق، جاءتني أعرفُ فيها الفزَع، فقالت: ألم ترَ الجنَّ وإبلاسها؟ ويأسَها من بعد إنكاسها ولحوقَها بالقِلاص وأحلاسها. قال عمر: صدق، بينما أنا نائم عند آلهتهم، إذ جاء رجلٌ يعجل فذبحه، فصرخَ به صارخ لم أسمع صارخًا قطُّ أشدَّ صوتًا منه يقول: يا جَليح، أمر نَجيح، رجلٌ فَصيح، يقول: لا إله إلا الله، فوثبَ القومُ، قلت: لا أبرح حتى أعلم ما وراء هذا، ثم نادى: يا جَليح، أمر نجيح، رجلٌ فصيح، يقول: لا إله إلَّا الله، فقمتُ، فما نشبنا أن قيل: هذا نبي.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ واقعہ مختصراً صحیح سند سے ثابت ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: امام بخاری نے "صحیح بخاری" (3866) میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر نے کسی خوبصورت شخص (سواد بن قارب) کو دیکھ کر اپنی فراست سے پہچان لیا کہ یہ زمانہ جاہلیت میں کاہن تھا۔ 🧾 تفصیلِ روایت: اس شخص نے اعتراف کیا اور اپنی جنیہ (جنات کی ساتھی) کے کچھ اشعار سنائے جو اس نے بعثتِ نبوی کے وقت کہے تھے (جن میں جنات کی مایوسی اور حق کے غلبے کا ذکر تھا)۔ حضرت عمر نے اس کی تصدیق فرمائی اور اپنا ایک واقعہ سنایا کہ انہوں نے بھی بتوں کے پاس ایک پکارنے والے سے سنا تھا جو "لا الہ الا اللہ" کی منادی کر رہا تھا۔
قوله: "أتاه رئيُّه"، هو الجني يعرض للإنسان ويطلعه على ما يزعم من الغَيْب.
📝 نوٹ / توضیح: "رئیُّہ" سے مراد وہ جن ہے جو انسان کے سامنے ظاہر ہوتا ہے اور اسے غیب (کی خبروں) سے مطلع کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔
قوله: "وتجساسها" يروى بالجيم المعجمة وبالحاء المهملة قال ابنُ الأَعرابي: تَجَسَّستُ الخَبَرَ وتَحَسَّسته بمعنًى واحدٍ، وقال غيره: التحسُّسُ: شبهُ التَّسمُّعِ والتَّبصر، والتجسُّسُ، بالجيم البحثُ عن العَورة. انظر "لسان العرب" مادة (حسس).
📝 نوٹ / توضیح: "تجساسہا" جیم اور حا دونوں کے ساتھ مروی ہے۔ ابن الاعرابی کہتے ہیں دونوں ہم معنی ہیں، جبکہ دیگر کے نزدیک "تحسس" (حا سے) آوازیں سننے اور دیکھنے کی کوشش کو کہتے ہیں، اور "تجسس" (جیم سے) کسی کی چھپی ہوئی باتوں یا عیوب کی ٹوہ لگانے کو کہتے ہیں۔ (لسان العرب، مادہ: حسس)۔
أحلاسها جمع جلس ما ولي ظهر الدابَّة تحت الرحل والسرج.
📝 نوٹ / توضیح: "احلاس" جمع ہے "حِلس" کی، اس سے مراد وہ کپڑا یا نمدہ ہے جو جانور کی پیٹھ پر زین یا کجاوے کے نیچے رکھا جاتا ہے۔
العِيس بالكسر: الإبل البِيض يخالط بياضَها شيء من الشَّقرة، واحدها أعيَسُ، والأنثى: عَيْساءُ.
📝 نوٹ / توضیح: "العِیس" ان سفید اونٹوں کو کہتے ہیں جن کی سفیدی میں ہلکی سی سرخی (گندمی رنگت) ملی ہو، اس کے واحد کے لیے "اعیس" اور مؤنث کے لیے "عیساء" کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔