المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
964. ذكر عبد الله بن عبد الملك آبي اللحم ، وذكر مواليه الذين أسلموا معه رضي الله تعالى عنهم
سیدنا عبد اللہ بن عبد الملک ابو اللحم رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر اور ان کے ان غلاموں کا بیان جو ان کے ساتھ اسلام لائے
حدیث نمبر: 6758
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو مُسلم، حدثنا القَعْنَبي، حدثنا حاتم بن إسماعيل، عن يزيد بن أبي عبيد، قال: سمعتُ عميرًا مولى آبي اللَّحم يقول: أمرني مولاي أن أُقدِّدَ (3) له لحمًا، فجاءني مسكينٌ فأطعمتُه منه، فضربني مولاي، فأتيتُ رسولَ الله ﷺ فذكرتُ ذلك له، فدعاه فقال:"لِمَ ضربتَه؟" فقال: يُطعِمُ طعامي من غير أن آمرَه، فقال رسولُ الله ﷺ:"الأجرُ بينَكما" (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6613 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6613 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
آبی اللحم رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ” عمیر “ کہتے ہیں: میرے آقا نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کے لئے گوشت بھونوں، میں گوشت بھون رہا تھا کہ ایک مسکین آ گیا، میں نے وہ گوشت مسکین کو کھلا دیا، اس پر میرے آقا نے مجھے بہت مارا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اور اس کی شکایت کر دی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلوایا، اور ان سے ان کو مارنے کی وجہ پوچھی، انہوں نے کہا: اس نے میری اجازت کے بغیر میرا کھانا کسی اور کو کھلا دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر جو ثواب ملے گا وہ تم دونوں کو ملے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6758]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6758 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) تحرَّف في (م) و (ص) إلى: اقدر، والمثبت من (ب).
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (م) اور (ص) میں "اقدر" ہو گیا تھا، جسے نسخہ (ب) کے مطابق درست کیا گیا ہے۔
(4) إسناده صحيح. أبو مسلم: هو إبراهيم بن عبد الله بن مسلم الكجّي، والقعنبي: هو عبد الله ابن مسلمة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: ابو مسلم سے مراد ابراہیم الکجی اور القعنبی سے مراد عبد اللہ بن مسلمہ ہیں۔
أخرجه مسلم (1025) (83)، والنسائي (2329) عن قُتَيبة بن سعيد، عن حاتم بن إسماعيل، بهذا الإسناد. وأخرجه أحمد 39/ (24009/ 85) عن صفوان بن عيسى، عن يزيد بن أبي عبيد، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم (1025)، نسائی (2329) نے قتیبہ عن حاتم بن اسماعیل کی سند سے اور امام احمد (39/ 24009) نے صفوان بن عیسیٰ عن یزید بن ابی عبید کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه مسلم (1025) (82)، وابن ماجه (2297)، وابن حبان (3360) من طريق محمد ابن زيد بن المهاجر، عن عمير، بنحوه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم، ابن ماجہ اور ابن حبان نے محمد بن زید کے طریق سے عمیر سے روایت کیا ہے۔
واستدراك الحاكم له ذهول منه.
🔍 فنی نکتہ / علّت: امام حاکم کا اس حدیث پر "استدراک" کرنا (یہ کہنا کہ یہ صحیحین کی شرط پر ہے مگر انہوں نے اسے نہیں لیا) ان کی بھول (ذہول) ہے، کیونکہ یہ پہلے سے صحیح مسلم میں موجود ہے۔