🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
968. ذكر أبى الجعد الضمري رضى الله عنه
سیدنا ابو الجعد ضمری رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6763
حدثنا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي وزياد بن الخليل التُّستَري، قالا: حدثنا إبراهيم بن المنذر الحِزامي، حدثنا عبد العزيز ابن أبي حازم، عن يزيد بن عبد الله بن الهاد، عن محمد بن إبراهيم التَّيمي، عن عيسى بن طلحة بن عُبيد الله، عن عُمير بن سَلَمة الضَّمْري قال: بينما نحن نسيرُ معَ رسولِ الله ﷺ وهو مُحرِمٌ ببعض نواحي الرَّوحاء، إذا نحن بحمارٍ معقور، فذكرتُ ذلك للنبيِّ ﷺ فقال:"دَعُوه"، فأتاه صاحبُه الذي عقرَه، وهو رجل من بَهْز، فقال: يا رسولَ الله، شأنَكم بهذا الحمارِ، فأمر رسولُ الله ﷺ أبا بكر أن يَقسِمَه بين الرِّفاق، ثم مرَّ فلمَّا كان بالأُثاية مرَّ بظَبْي حاقفٍ في ظلِّ شجرةٍ فيه سهمٌ، فأمرَ النبيُّ ﷺ إنسانًا فنادَى: أن لا يأخُذَه إنسانٌ، فنَفَذَ الناسُ وتركوه (1) . ذكرُ أبي الجَعْد الضَّمْري ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6618 - سنده صحيح
سیدنا عمیر بن سلمہ ضمری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مقام روحاء کے کسی نواحی علاقے میں سفر میں تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت احرام میں تھے۔ ہم نے ایک گدھا دیکھا جس کی کونچیں کٹی ہوئی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو چھوڑ دو۔ اس کے بعد اس گدھے کا وہ مالک جس نے اس کی کونچیں کاٹی تھیں وہ بہز قبیلے سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص تھا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ گدھا آپ کے لئے ہی تو تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اس کو اپنے ساتھیوں میں تقسیم کر دو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر آگے چل دیئے، جب مقام اثابہ میں پہنچے تو ہم نے ایک درخت کے سائے میں ایک ہرن کو پایا، اس کو تیر لگا ہوا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو کہا کہ اعلان کر دو کہ کوئی شخص اس کا گوشت نہ کھائے، چنانچہ تمام لوگ اس کو اسی طرح چھوڑ کر آگے گزر گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6763]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6763 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح كما قال الذهبي في "التلخيص".
⚖️ درجۂ حدیث: علامہ ذہبی کے بقول اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه مختصرًا النسائي (4837)، وابن حبان (5112) من طريق بكر بن مضر، عن يزيد ابن عبد الله بن الهاد بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی اور ابن حبان نے بقر بن مضر کے طریق سے مختصراً روایت کیا ہے۔
وأخرجه بتمامه أحمد 24/ (15450) عن هشيم، عن يحيى بن سعيد الأنصاري، عن محمد ابن إبراهيم التيمي، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (24/ 15450) میں ہشیم عن یحییٰ انصاری کی سند سے مکمل طور پر روایت کیا ہے۔
وخالف هشيمًا مالكٌ في "الموطأ" 1/ 351 - ومن طريقه النسائي (3786)، وابن حبان (5111) - ويزيدُ بن هارون عند أحمد 25/ (15744)، فروياه (مالك ويزيد) عن يحيى الأنصاري، به عن عمير بن سلمة، عن الرجل البَهْزي. فجعلاه من مسند البهزي، واسمه زيد بن كعب. وانظر لهذا الخلاف "علل الدارقطني" (3182) فقد استوعبها. وهذا من الاختلاف الذي لا يضرُّ، لأنَّ الصحابة كلهم ثقات عدول.
🔍 فنی نکتہ / علّت: امام مالک اور یزید بن ہارون نے اس روایت میں ہشیم کی مخالفت کی ہے؛ انہوں نے اسے "عمیر بن سلمہ" کے واسطے سے "بہزی" (زید بن کعب) سے مروی قرار دیا ہے (یعنی اسے مسندِ بہزی میں شامل کیا ہے)۔ 📌 اہم نکتہ: امام دارقطنی نے "العلل" میں اس اختلاف کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ تاہم یہ ایسا اختلاف ہے جو حدیث کی صحت کو نقصان نہیں پہنچاتا کیونکہ تمام صحابہ کرام ثقہ اور عادل ہیں۔
قوله: "معقور"، يقال: عَقَر البعيرَ والفرس بالسيف فانْعَقَر، أي: ضرب به قوائمه.
📝 نوٹ / توضیح: لفظ "معقور" کا مطلب ہے وہ جانور (اونٹ یا گھوڑا) جس کی ٹانگوں پر تلوار سے ضرب لگا کر اسے گرا دیا گیا ہو۔
وقوله: "حاقف" أي: نائم قد انحنى في نومه.
📝 نوٹ / توضیح: لفظ "حاقف" کا مطلب ہے وہ (جانور) جو اس طرح سو رہا ہو کہ نیند کی حالت میں اس کا جسم مڑا ہوا یا جھکا ہوا ہو۔