🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
987. ذكر أبى بردة بن نيار رضي الله عنه
سیدنا ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6796
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا عُبيد بن شَريك البزَّار والفضل ابن محمد البيهقي، قالا: حدثنا نُعيم بن حماد، أخبرنا هُشيم، عن سيَّار (1) ، عن أبي وائل، أنَّ عبد الله بن حُذافة بن قيس قال: يا رسولَ الله، من أبي؟ قال:"أبوك حُذافةُ، الولدُ للفِراش وللعاهرِ الحَجَرُ" قال: لو دعوتَني لَحَبشي لاتَّبعتُه، فقالت له أمُّه: لقد عرَّضتَني، فقال: إني أحببتُ أن أستريح (2) . ذكرُ أبي بُرْدة بن نِيَار ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6651 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ نے (ایک موقعہ پر) عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا باپ کون ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرا باپ حذافہ ہے۔ بیٹا صاحب فراش کا ہے، اور زانی کے لئے پتھر ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6796]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6796 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: بن يسار.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "بن یسار" ہو گیا ہے۔
(2) صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف؛ نعيم بن حماد متكلم فيه، ورواية أبي وائل -وهو شقيق ابن سلمة- عن عبد الله بن حذافة مرسلة، قال ابن البرقى: حُفظ عنه -أي: ابن حذافة- ثلاثة أحاديث ليست بصحيحة الاتصال. وقال الهيثمي في "مجمع الزوائد" 5/ 15: رواه الطبراني وهو مرسل، ورجاله ثقات!
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت "صحیح لغیرہ" ہے لیکن یہ سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: نعیم بن حماد پر جرح موجود ہے اور ابو وائل (شقیق بن سلمہ) کی عبد اللہ بن حذافہ سے روایت "مرسل" ہے۔ ابن البرقی کے مطابق ابن حذافہ سے تین ایسی احادیث مروی ہیں جن کا اتصال صحیح نہیں۔ ہیثمی نے کہا کہ اسے طبرانی نے روایت کیا اور یہ مرسل ہے مگر راوی ثقہ ہیں۔
ويشهد له ما رواه أحمد 19/ (12044) من طريق حميد الطويل عن أنس قال: قال رسول الله ﷺ "لا تسألوني عن شيء إلى يوم القيامة إلا حدثتكم" قال: فقال عبد الله بن حذافة: يا رسول الله، من أبي؟ قال: "أبوك حذافة" فقالت أمه: ما أردتَ إلى هذا؟ قال: أردتُ أن أستريح وإسناده صحيح.
🧩 متابعات و شواہد: اس کی شاہد وہ روایت ہے جسے امام احمد 19/ (12044) نے حمید الطویل عن انس کے طریق سے نقل کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "آج تم مجھ سے جو بھی پوچھو گے میں بتا دوں گا"، تو عبد اللہ بن حذافہ نے پوچھا: میرا باپ کون ہے؟ فرمایا: "تیرا باپ حذافہ ہے"۔ اس پر ان کی والدہ نے انہیں ٹوکا تو انہوں نے کہا میں (لوگوں کی باتوں سے) سکون چاہتا تھا۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس شاہد کی سند صحیح ہے۔
وأخرج مسلم بإثر الحديث (2359) من طريق الزهري قال: أخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، قال: قالت أم عبد الله بن حذافة لعبد الله بن حذافة: ما سمعت بابن قط أعقَّ منك؟ أأمنت أن تكون أمك قد قارفت بعض ما تقارف نساء أهل الجاهلية، فتفضحها على أعين الناس؟ قال عبد الله بن حذافة: والله لو ألحقَني بعبدٍ أسود للحقتُه.
📖 حوالہ / مصدر: امام مسلم نے حدیث (2359) کے بعد زہری کے طریق سے نقل کیا ہے کہ عبد اللہ بن حذافہ کی ماں نے ان سے کہا: میں نے تجھ سے زیادہ نافرمان بیٹا نہیں دیکھا، کیا تو مامون تھا کہ تیری ماں سے جاہلیت والی کوئی خطا نہ ہوئی ہو گی جو تو نے اسے لوگوں کے سامنے رسوا کرنے کا خطرہ مول لیا؟ عبد اللہ نے جواب دیا: اللہ کی قسم! اگر نبی ﷺ مجھے کسی سیاہ غلام کے ساتھ بھی منسوب کر دیتے تو میں اسے قبول کر لیتا۔
وقصة سؤال عبد الله بن حذافة وردت في البخاري (93) و (7089)، ومسلم (2359) من غير طريق عن أنس بن مالك، وعن أبي موسى الأشعري عند البخاري (92)، ومسلم (2360).
📖 حوالہ / مصدر: عبد اللہ بن حذافہ کے سوال کا یہ قصہ بخاری (93، 7089) اور مسلم (2359) میں حضرت انس سے، اور بخاری (92) و مسلم (2360) میں حضرت ابو موسیٰ اشعری سے مروی ہے۔
ويشهد لقوله: "الولد للفراش وللعاهر الحجر" حديث عائشة عند البخاري (2218)، ومسلم (1457).
🧩 متابعات و شواہد: آپ ﷺ کے قول "بچہ بستر والے کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہیں" کی شاہد حضرت عائشہ کی روایت ہے جو بخاری (2218) اور مسلم (1457) میں موجود ہے۔