🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1007. ذكر أبى أمامة الباهلي رضى الله عنه
سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6848
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجبَّار، حَدَّثَنَا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، حدثني الزُّهْري، حدثني عبد الملك بن أبي بكر ابن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، عن أبيه، عن عبد الله بن زَمْعة بن الأسود بن المطَّلب بن أسد قال: لما استُعِزَّ (1) برسولِ الله ﷺ، وأنا عنده في نَفَرٍ من المسلمين دعا بلالٌ إلى الصلاة، فقال:"مُرُوا مَن يُصلِّي بالناس"، فخرجتُ فإذا عمرُ في الناس، وكان أبو بكر غائبًا، فقلتُ: يا عمر، قُمْ فصلِّ بالناس، فقام فلمَّا كَبَّر سَمِعَ رسولُ الله ﷺ، صوتَه، وكان عمر رجلًا جَهيرًا، فقال رسول الله ﷺ:"فأين أبو بكر؟ يَأبى اللهُ والمسلمون ذلك". فبعث إلى أبي بكر، فجاء بعد أن صلَّى عمرُ تلك الصلاةَ، فصلَّى بالناس. قال عبد الله بن زَمْعة: فقال عمرُ: وَيْحَكَ ماذا صنعتَ بي يا ابنَ زَمْعة؟ واللهِ ما ظننتُ حين أمرتَني إلَّا أنَّ رسولَ الله ﷺ أمرَكَ بذلك، ولولا ذلك ما صليتُ بالناس، قلتُ: والله ما أمرَني رسولُ الله ﷺ، ولكن حين لم أرَ أبا بكرٍ، رأيتُك أحقَّ من حضرَ بالصلاة بالناس (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ذكرُ أبي أُمامة الباهلي ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6703 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
عبداللہ بن زمعہ بن اسود بن مطلب بن اسد فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ علیل ہوئے، تو میں مسلمانوں کی ایک جماعت کے ہمراہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا، سیدنا بلال نے اذان دی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی کو کہہ دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، آپ فرماتے ہیں: میں وہاں سے نکلا، میں نے دیکھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں میں موجود تھے جبکہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ موجود نہ تھے، میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کی: اے عمر! آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیجئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہو گئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی آواز نسبتاً بلند تھی، جب انہوں نے تکبیر تحریمہ کہی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کی آواز سنی، تو پوچھا: ابوبکر کہاں ہے؟ اللہ تعالیٰ اور مسلمان اس بات کو پسند نہیں کرتے (کہ ابوبکر کے ہوتے ہوئے کوئی دوسرا نماز پڑھائے) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلوایا، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ حاضر بارگاہ ہوئے تو اس وقت تک سیدنا عمر نماز پڑھا چکے تھے، آپ نے آ کر لوگوں کو (دوبارہ) نماز پڑھائی۔ سیدنا عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: تو ہلاک ہو جائے، اے ابن زمعہ! تو نے میرے ساتھ یہ کیا کیا؟ خدا کی قسم! جب تم نے مجھے کہا: تو میں یہی سمجھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نماز پڑھانے کا حکم دیا ہے، اگر مجھے پتا ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم نہیں دیا تو میں نماز نہ پڑھاتا، میں نے کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم نہیں دیا تھا، لیکن میں نے جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نہ دیکھا، اور حاضرین میں مجھے آپ ہی نماز پڑھانے کے زیادہ اہل نظر آئے، تو میں نے آپ کو کہہ دیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6848]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6848 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: استقر، والتصويب من مصادر التخريج. ومعنى "استُعزَّ" بالبناء للمفعول: اشتدَّ به المرض وأشرف على الموت. قاله ابن الأثير في "النهاية" (عزز).
📝 نوٹ / توضیح: (1) قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "استقر" بن گیا تھا، جس کی تصحیح مصادرِ تخریج سے کی گئی ہے۔ "استُعزَّ" (مجہول کے صیغے کے ساتھ) کا معنی ہے: ان کا مرض شدید ہو گیا اور وہ موت کے قریب ہو گئے۔ یہ ابن اثیر نے "النہایۃ" (مادہ: عزز) میں کہا ہے۔
(2) ضعيف بهذا السياق، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكن الراجح أن ابن إسحاق - وهو محمد بن إسحاق بن يسار - لم يسمعه من الزهري كما هو مبيَّن في التعليق على "مسند أحمد" و"سنن أبي داود".
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ حدیث اس سیاق کے ساتھ ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس سند کے راویوں میں کوئی حرج نہیں (لا بأس بہم)، لیکن راجح بات یہ ہے کہ ابن اسحاق - جو کہ محمد بن اسحاق بن یسار ہیں - نے اسے زہری سے نہیں سنا، جیسا کہ "مسند احمد" اور "سنن ابی داؤد" کی تعلیق میں واضح کیا گیا ہے۔
وأخرجه أحمد (31/ 18906) من طريق إبراهيم بن سعد، وأبو داود (4660) من طريق محمد بن سلمة، كلاهما عن ابن إسحاق، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (31/ 18906) نے ابراہیم بن سعد کے طریق سے، اور ابو داؤد (4660) نے محمد بن سلمہ کے طریق سے روایت کیا، یہ دونوں ابن اسحاق سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
وأخرجه أبو داود (4661) من طريق موسى بن يعقوب عن عبد الرحمن بن إسحاق، عن ابن شِهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، أن عبد الله بن زمعة، أخبره بهذا الخبر. وموسى بن يعقوب ضعيف.
📖 حوالہ / مصدر: نیز اسے ابو داؤد (4661) نے موسیٰ بن یعقوب کے طریق سے، انہوں نے عبد الرحمن بن اسحاق سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ سے روایت کیا کہ عبد اللہ بن زمعہ نے انہیں اس خبر کے بارے میں بتایا۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اور موسیٰ بن یعقوب ضعیف ہیں۔
والذي في "صحيحي" البخاري (687)، ومسلم (418) من حديث عائشة قالت: فأرسل رسول الله ﷺ إلى أبي بكر أن يصلي بالناس، فأتاه الرسول فقال: إنّ رسول الله ﷺ يأمرك أن تصلي بالناس، فقال أبو بكر - وكان رجلًا رقيقًا -: يا عمرُ، صلِّ بالناس، قال: فقال عمر: أنت أحق بذلك، قالت: فصلَّى بهم أبو بكر تلك الأيام.
🧩 متابعات و شواہد: اور وہ روایت جو صحیح بخاری (687) اور مسلم (418) میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے ہے، وہ فرماتی ہیں: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر کو پیغام بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تو قاصد ان کے پاس آیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو حکم دیتے ہیں کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تو ابو بکر - جو کہ ایک نرم دل آدمی تھے - نے کہا: اے عمر! تم لوگوں کو نماز پڑھاؤ، وہ کہتی ہیں: عمر نے کہا: آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں، وہ فرماتی ہیں: پھر ابو بکر نے ان ایام میں لوگوں کو نماز پڑھائی۔"