🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1011. ذكر مخمر بن حيدة أخوهم الثالث رضي الله عنه
سیدنا مخمر بن حیدہ رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر جو ان کے تیسرے بھائی تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6853
حَدَّثَنَا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حَدَّثَنَا الحسن بن مُكرَم، حَدَّثَنَا يحيى بن حمَّاد، حَدَّثَنَا حماد بن سَلَمة، عن أبي قَزَعة، عن حَكيم بن معاوية بن حَيْدة، عن أبيه: أنه قال لأخيه مالك بن حَيْدة: انطلِقْ بنا إلى رسولِ الله ﷺ فإنه يعرفُك ولا يعرفُني، فقد حبَسَ ناسًا من جِيراني، فأتَيَاه وقال مالك بن حَيْدة: يا رسولَ الله، إني قد أسلمتُ، وأسلمَ جيراني، فخلِّ عنهم، فلم يُجِبْه، ثم أعاد فلم يُجِبْه، فقام متسخِّطًا، فقال: لئن فعلتَ ذاك إنهم يزعمون أنَّك تدعو إلى الأمر وتخالفُ إلى غيره، فجعلتُ أزجرُه وأنهاه، فقال:"ما تقولُ؟" قالوا: إنه يقول: كذا وكذا، فقال:"إن فعلتُ ذاك، فإنَّ ذاك عليَّ، ما عليهم منه شيءٌ، دَعْ له جِيرانَه" (3) . ذكرُ مِخْمَر بن حَيْدة أخيهم (1) الثالث ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6708 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حکیم بن معاویہ بن حیدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بھائی مالک بن حیدہ سے کہا: تم میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو، کیونکہ وہ تمہیں پہچانتے ہیں، مجھے نہیں پہچانتے، انہوں نے میرے کچھ پڑوسیوں کو گرفتار کر لیا ہوا ہے۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے آئے، مالک بن حیدہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی اسلام لا چکا ہوں اور میرے پڑوسی بھی مسلمان ہو چکے ہیں، اس لئے آپ ان کو رہا کر دیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کوئی جواب نہ دیا، مالک نے دوبارہ کہا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر کوئی جواب نہ دیا، وہ غصے میں بپھر کر کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اگر تم اسی طرح کرو گے تو وہ سمجھیں گے کہ تم جس چیز کا دوسروں کو حکم دیتے ہو، خود اسی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہو، میں اس کو ڈانٹنے لگ گیا اور اس کو ایسی باتیں کرنے سے روکنے لگ گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ فلاں فلاں باتیں کر رہا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں جو کچھ کر رہا ہوں، اس کا وبال میرے اوپر ہو گا، اس سے ان کا تو کوئی نقصان نہیں ہے، اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6853]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6853 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده حسن من أجل حكيم بن معاوية. أبو قزعة: هو سويد بن حجير بن بيان الباهلي.
⚖️ درجۂ حدیث: (3) اس کی سند حکیم بن معاویہ کی وجہ سے حسن ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو قزعہ: یہ سوید بن حجیر بن بیان الباہلی ہیں۔
وأخرجه أحمد 33/ (20014) عن عفان بن مسلم، عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد. وفي رواية عفان: أنَّ أخا معاويةَ مالكًا قال: يا معاويةُ، إنَّ محمدًا أخذ جيراني فانطلِقْ إليه، فإنه قد عرفك وكلَّمك. وهو الصواب. وانظر "طبقات ابن سعد" 9/ 34.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد 33/ (20014) نے عفان بن مسلم سے، انہوں نے حماد بن سلمہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عفان کی روایت میں ہے کہ: "معاویہ کے بھائی مالک نے کہا: اے معاویہ! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے میرے پڑوسیوں کو پکڑ لیا ہے، لہٰذا تم ان کے پاس جاؤ، کیونکہ وہ تمہیں پہچانتے ہیں اور تم سے بات چیت کر چکے ہیں۔" اور یہی درست ہے۔ مزید دیکھیے "طبقات ابن سعد" 9/ 34۔
وسلف برقم (432) من طريق بهز بن حكيم عن أبيه.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ حدیث پیچھے نمبر (432) پر بہز بن حکیم عن ابیہ کے طریق سے گزر چکی ہے۔
(1) في النسخ: أخوهم، والجادة ما أثبتنا.
📝 نوٹ / توضیح: (1) نسخوں میں "أخوہم" ہے، جبکہ درست وہ ہے جو ہم نے ثابت کیا ہے۔