🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1016. تزوج النبى عائشة - رضي الله عنها -
نبی کریم ﷺ کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6863
قال ابن عمر: فحدثني عبد الواحد بن ميمون مولى عُرْوة، عن حَبيب مولى عُرْوة قال: لما ماتت خديجة حَزِنَ عليها النَّبِيّ ﷺ، فأتاه [جبريل] (3) بعائشةَ في مهدٍ، فقال: يا رسولَ الله، هذه تذهبُ ببعض حُزنك، وإنَّ في هذه خَلَفًا من خديجةَ. ثم ردَّها، فكان رسولُ الله ﷺ يختلفُ إلى بيت أبي بكر ويقول:"يا أمَّ رُومان، استوصِي بعائشةَ خيرًا، واحفظيني فيها"، فكان لعائشةَ بذلك منزلةٌ عند أهلها، ولا يشعرون بأمرِ الله فيها، فأتاهم رسولُ الله ﷺ في بعضِ ما كان يأتيهم، وكان لا يُخطِئُه يومٌ واحد إلَّا أن يأتيَ بيتَ أبي بكر منذ أسلمَ إلى أن هاجَر، فيجدُ عائشةَ مُتستِّرةً بباب أبي بكر، تبكي بُكاء حزينًا، فسألها فشَكَت أُمَّها وذكرت أنها تَولَع، فدمعت عينا رسولِ الله ﷺ، فدخل على أُمِّ رُومان فقال:"يا أمَّ رومان، ألم أُوصِك بعائشةَ أن تحفظيني فيها؟" فقالت: يا رسولَ الله، إنها بلَّغتِ الصدِّيقَ عنا وأغضبته علينا، فقال النَّبِيُّ ﷺ:"وإنْ فعلَتْ"، قالت أمُّ رُومان: لا جَرَمَ، لا سُؤْتُها أبدًا. وكانت عائشةُ وُلدت السنةَ الرابعةَ من النُّبوة في أولها، وتزوَّجها رسولُ الله ﷺ في السنة العاشرة في شوَّال، وهي يومئذ ابنةُ ستِّ سنينَ، وتزوَّجها بعدَ سَوْدةَ بشهر (1) .
محمد بن عمر نے اپنی سند کے ہمراہ حبیب جو کہ عروہ کے آزاد کردہ غلام ہیں کا یہ بیان نقل کیا ہے جب ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت شدید پریشان ہوئے تو سیدنا جبریل امین علیہ السلام ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ایک پنگھوڑے میں لے کر حاضر ہوئے، اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ کا غم کافی حد تک ختم کر دے گی، اس میں (آپ کو) خدیجہ رضی اللہ عنہا جیسا سکون ملے گا، پھر ان کو واپس لے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے جایا کرتے تھے اور (سیدہ عائشہ کی والدہ سے) کہتے: اے ام رومان! عائشہ کا خیال رکھا کرو اور اس کے حوالے سے میری بھی حفاظت کیا کرو۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ان کی بہت عزت تھی، اور ان کے بارے میں ان کو اللہ تعالیٰ کے حکم کا کچھ پتا نہ تھا۔ جب سے سیدنا ابوبکر نے اسلام قبول کیا اس وقت سے ہجرت تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم بلاناغہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے جایا کرتے تھے، ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے ہوئے تھے، آپ نے دیکھا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا دروازے کے پیچھے چھپی ہوئی ہیں، بہت غمگین ہیں اور رو رہی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پریشان اور رونے کا سبب پوچھا تو انہوں نے اپنی والدہ کی شکایت کی، اور بتایا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت محبت کرتی ہیں، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ سے آنسو نکل پڑے، آپ ام رومان کے پاس گئے اور فرمایا: اے ام رومان! میں نے تمہیں تاکید نہیں کی تھی کہ اس کے سلسلے میں تم میری حفاظت کرنا، انہوں نے بتایا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس نے ابوبکر صدیق کو ہماری شکایت کی ہے جس کی وجہ سے وہ ہم سے خفا ہو گئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اس نے اگرچہ یہ کیا ہے (لیکن آپ کو نہیں چاہیے تھا کہ اس کو پریشان کرتی) ام رومان نے کہا: آج کے بعد آپ کو پھر کبھی شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبوت کے چوتھے سال پیدا ہوئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کے دسویں سال ان سے نکاح کیا، نکاح کے وقت ان کی عمر 6 سال تھی، سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کے ایک ماہ بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6863]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6863 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) سقط من نسخنا الخطية، والمثبت من "طبقات ابن سعد".
📝 نوٹ / توضیح: (3) یہ عبارت ہمارے قلمی نسخوں سے ساقط ہو گئی تھی، جسے "طبقات ابن سعد" سے ثابت کیا گیا ہے۔
(1) إسناده ضعيف، عبد الواحد بن ميمون ضعيف منكر الحديث، له ترجمة في "لسان الميزان"، وحبيب مولى عروة روى عنه جمع، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقال: يخطئ، والخبر مع ضعفه مرسل.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عبد الواحد بن میمون ضعیف اور منکر الحدیث ہیں، ان کا ترجمہ "لسان المیزان" میں موجود ہے۔ اور حبیب مولیٰ عروہ سے ایک جماعت نے روایت کی ہے اور ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا ہے اور فرمایا: "وہ غلطی کر جاتا ہے"۔ یہ خبر ضعیف ہونے کے ساتھ ساتھ مرسل بھی ہے۔
وأخرجه ابن سعد في "الطبقات" 10/ 77 عن محمد بن عمر الواقدي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے "الطبقات" 10/ 77 میں محمد بن عمر الواقدی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
تَولع: أي: تستخف بحقها فيؤذيها ذلك.
📝 نوٹ / توضیح: "تَولع": یعنی وہ اس کے حق کو ہلکا سمجھتی (استخفاف کرتی) جس سے اسے تکلیف ہوتی۔