🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1029. ذكر تزوج النبى حفصة
نبی کریم ﷺ کا سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6900
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا هشام بن علي السَّدوسي، حَدَّثَنَا موسى بن إسماعيل، حَدَّثَنَا حماد بن سَلَمة، عن علي بن زيد، عن سعيد بن المسيّب قال: آمَتْ حفصةُ بنت عمر بن الخطاب من زوجِها، وآمَ عثمانُ من رُقيَّة، فمرَّ عمرُ بعثمان فقال: هل لك في حفصة؟ فلم يُحِرْ إليه شيئًا، فأتى عمر النَّبِيّ ﷺ فقال: ألم تَرَ إلى عثمانَ، عرضتُ عليه حفصةَ فأعرضَ عنّي ولم يُحِرْ إليَّ شيئًا، فقال النَّبِيُّ ﷺ:"فخيرٌ من ذلك، أتزوَّجُ أنا حفصة، وأُزوِّجُ عثمانَ أمَّ كُلثوم"، فتزوَّج النَّبِيُّ ﷺ حفصةَ، وزوج عثمانَ أُمَّ كُلثوم بنت رسولِ الله ﷺ (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6751 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدہ حفصہ بنت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا کا شوہر فوت ہو گیا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی زوجہ سیدہ رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے کہا: کیا آپ کو حفصہ میں کوئی دلچسپی ہے؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مجھ سے اعراض کیا اور میرے بارے میں کوئی خاطر خواہ جواب نہ دیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شکایت کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اس سے بھی بہتر حل موجود ہے۔ حفصہ سے میں نکاح کر لیتا ہوں اور عثمان کے ساتھ میں اپنی بیٹی ام کلثوم کا نکاح کر دیتا ہوں۔ چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے خود نکاح فرمایا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہمراہ اپنی صاحبزادی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح کر دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6900]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6900 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) صحيح لغيره، وهذا إسناده ضعيف من أجل علي بن زيد: وهو ابن جُدعان.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ "صحیح لغیرہ" ہے، جبکہ موجودہ سند علی بن زید (بن جدعان) کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔
وأخرجه ابن سعد في "الطبقات" 10/ 82 وإسحاق بن راهويه في "مسنده" (2006) عن سليمان بن حرب، عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے "الطبقات" (10/ 82) اور اسحاق بن راہویہ نے اپنی "مسند" (2006) میں سلیمان بن حرب عن حماد بن سلمہ کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن سعد في "الطبقات" 10/ 82، عن سليمان بن حرب، عن حماد بن زيد، عن علي بن زيد بنحوه، ولم يسق لفه. وزاد قال سعيد فخار الله لهما جميعًا، كان رسول الله ﷺ لحفصة خيرًا من عثمان، وكانت بنت رسول الله ﷺ لعثمان خيرًا من حفصة بنت عمر.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد (10/ 82) نے سلیمان بن حرب عن حماد بن زید عن علی بن زید کے واسطے سے اسی طرح روایت کیا، لیکن الفاظ مکمل نقل نہیں کیے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: اس میں یہ اضافہ ہے کہ سعید نے فرمایا: اللہ نے ان دونوں (عثمان اور حفصہ) کے لیے بہتر فیصلہ فرمایا؛ (کیونکہ) رسول اللہ ﷺ حفصہ کے لیے عثمان سے بہتر ثابت ہوئے، اور رسول اللہ ﷺ کی بیٹی (رقیہ/ام کلثوم) عثمان کے لیے حفصہ بنت عمر سے بہتر ثابت ہوئیں۔
ويشهد له حديث عمر عند البخاري (4005) وغيره.
🧩 متابعات و شواہد: اس کی تائید حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہوتی ہے جو بخاری (4005) وغیرہ میں موجود ہے۔
وانظر حديث أنس الآتي برقم (7032).
📝 نوٹ / توضیح: حضرت انس رضی اللہ عنہ کی آئندہ آنے والی حدیث نمبر (7032) ملاحظہ کریں۔