🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1034. خطبة النجاشي على نكاح أم حبيبة
نجاشی کا سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کا خطبہ پڑھنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6912
أخبرناه الحسن بن يعقوب بن يوسف العدل، حَدَّثَنَا السَّري بن خُزيمة، حَدَّثَنَا موسى بن إسماعيل، حَدَّثَنَا حماد بن سَلَمة، أخبرنا ثابت، عن ابن عمر بن أبي سلمة، عن أبيه، عن أمِّ سلمة قالت: قال رسولُ الله ﷺ:"إذا أصابت أحدَكم مصيبةٌ فليقُلْ: إنَّا لله وإنَا إليه راجعون، اللهمَّ عندَك أحتسب مُصيبتي، فأجُرْني فيها"، وكنتُ إذا أردتُ أن أقول: وأبدلني بها خيرًا منها، قلتُ: ومَن خيرٌ من أبي سلمة؟ فلم أزل حتَّى قلتُها، فلما انقضت عِدَّتُها خطَبَها أبو بكر فردَّته، وخطبَها عمرُ فردَّته، فبعث إليها النَّبِيُّ ﷺ ليَخطِبَها فقالت: مرحبًا برسول الله ﷺ وبرسولِه، أقرِئْ رسول الله ﷺ السلامَ، وأخبِرْه أنِّي امرأة مُصبِية غَيْرَى، وأنه ليس أحدٌ من أوليائى [شاهدًا، فبعث إليها رسولُ الله ﷺ:"أما قولُك: إني مُصبِيةٌ، فَإِنَّ الله سيكفيك صِبيانَك، وأما قولُك: إني غَيْرَى، فسأدعو الله أن يُذهِبَ غَيْرتَك، وأما الأولياءُ، فليس أحدٌ منهم] (2) شاهدٌ ولا غائبٌ إلَّا سَيَرْضاني"، فقالت لابنها: قُمْ يا عمرُ، فزوِّج رسولَ الله ﷺ، فزوَّجَها إياه، وقال لها:"لا أنقصُكِ ممّا أعطيتُ أُختَك فلانةً: جَرَّتينِ (1) ورَحاءَين ووِسادةً من أَدَمٍ حَشْوُها لِيفٌ". فكان رسولُ الله ﷺ يأتيها وهي تُرِضُع زينبَ، فكانت إذا جاء النَّبِيُّ ﷺ أخذَتْها فوضعتها في حِجْرها تُرضعُها. قالت: وكان رسولُ الله ﷺ حَبِيًا كريمًا فيرجعُ، فَفَطِنَ لها لها عمارُ بن ياسر، وكان أخًا لها من الرَّضاعة، فأراد رسولُ الله ﷺ أن يأتيَها ذاتَ يوم، فجاء عمار فدخل عليها فانتشطَ زينبَ من حِجْرِها، وقال: دَعِي هذه المقبوحةَ المشقوحةَ التي قد آذيتِ بها رسولَ الله ﷺ، فجاء رسولُ الله ﷺ فدخل يُقلِّبُ بصرَه في البيت: أين زُنَابُ؟ ما لي لا أرى زُنَابَ؟" فقالت: جاء عمَّارٌ فذهب بها، فبنَى رسولُ الله ﷺ بأهله، وقال:"إن شئت أن أسبِّعَ لك، سبَّعتُ للنِّساء" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد. قال: ابن عمر بن أبي سلمة الذي لم يُسمِّه حماد بن سَلَمة في هذا الحديث، سمَّاه غيرُه سعيدَ (3) بن عمر بن أبي سلمة، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6759 - صحيح
ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تمہیں کوئی مصیبت آئے تو یوں دعا مانگو: ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور اسی کی جانب ہمیں لوٹ کر جانا ہے، اے اللہ میں اپنی مصیبت کا معاملہ تیری بارگاہ میں پیش کرتا ہوں تو مجھے اس میں اجر عطا فرما۔ ام المومنین فرماتی ہیں (اس دعا میں اس سے آگے یہ الفاظ ہیں، یا اللہ! مجھے اس کا اچھا بدل عطا فرما، چنانچہ) میں جب اگلے لفظ بولنے لگتی تو میں سوچتی کہ ابوسلمہ سے بہتر مجھے کونسا شوہر مل سکتا ہے؟ لیکن میں یہ دعا مسلسل مانگتی رہی، حتیٰ کہ جب میری عدت پوری ہو گئی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے پیغام نکاح بھیجا، میں نے انکار کر دیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پیغام بھیجا، میں نے ان کو بھی انکار کر دیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام نکاح دے کر ایک خاتون کو بطور نمائندہ بھیجا، ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ تعالیٰ کے رسول کو خوش آمدید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر کو بھی خوش آمدید۔ (پھر اس خاتون سے کہا) تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا سلام کہنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دینا کہ مجھ میں بچے پیدا کرنے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے اور میں بہت زیادہ غیرت مند بھی ہوں۔ اور یہ کہ میرے قریبی رشتہ داروں میں کوئی بھی اس وقت میرے پاس نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً پیغام بھیجا کہ بچوں کے معاملہ میں، اللہ تعالیٰ تیرے بچوں کو تیرے لئے سلامت رکھے (میری طرف سے اس بات کی پرواہ نہ کرو) اور جہاں تک غیرت کا معاملہ ہے تو میں دعا کروں گا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری اس کیفیت میں نرمی عطا فرمائے۔ اور جہاں تک اولیاء کا ہے تو تمہارے جتنے بھی اولیاء ہیں چاہے یہاں حاضر ہیں یا غائب ہیں سب کو راضی کرنا میری ذمہ داری ہے۔ ام المومنین نے اپنے بیٹے سے کہا: اے بیٹے عمر جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میرا نکاح کر دو، ان کے بیٹے نے ان کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کر دیا۔ اور ان سے کہا: میں نے جتنا سامان تمہاری فلاں بہن کو دیا تھا اتنا ہی آپ کو بھی دوں گا، اس میں کچھ بھی کمی نہیں کروں گا۔ چنانچہ دو مٹکے، دو چکیاں اور ایک تکیہ جس میں لیف بھرا ہوا تھا ان کو جہیز میں دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لاتے تھے۔ ان ایام میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی زینب دودھ پیتی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی تشریف لاتے تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا اپنی بیٹی زینب کو گود میں لٹا کر دودھ پلانے لگ جاتی تھیں۔ آپ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت نرم مزاج اور حیا دار تھے، آپ غصہ کئے بغیر واپس تشریف لے جاتے تھے، عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی بھائی ہیں، وہ معاملہ سمجھ گئے۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس جانے کا ارادہ کیا، تو سیدنا عمار بن یاسر، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان کی گود سے زینب کو چھین لیا اور کہا: اس گندی بچی کو چھوڑ دو تو نے اس کے سبب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دی ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، آپ نے حجرے کے چاروں طرف نظر دوڑائی اور پوچھا: زناب کہاں ہے؟ کیا بات ہے آج زناب نظر نہیں آ رہی؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: عمار آیا تھا وہ اس کو اپنے ساتھ لے گیا، اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس بیوی کے ساتھ سلسلہ ازدواج شروع کیا۔ اور ان سے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں ساتوں دن تمہارے پاس آیا کروں اور (اس صورت میں دیگر) ازواج کے پاس بھی ساتوں دن جایا کروں گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ ابن عمر بن ابی سلمہ کہتے ہیں: اس حدیث میں حماد بن سلمہ نے جس راوی کا نام ذکر نہیں کیا ہے، ایک اور محدث نے ان کا نام ذکر کر دیا ہے۔ وہ سعید بن عمر بن ابی سلمہ ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6912]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6912 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) ما بين المعقوفين مكانه في النسخ الخطية بياض، وأثبتناه من بعض مصادر التخريج ك "مسند أحمد" و "صحيح ابن حبان".
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں بریکٹ والی جگہ پر خالی جگہ (بیاض) تھی، جسے ہم نے "مسند احمد" اور "صحیح ابن حبان" جیسے تخریج کے مصادر کی مدد سے پر کیا ہے۔
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: حرير.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "حریر" بن گیا تھا۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات غير ابن عمر بن أبي سلمة فمجهول، وانظر تمام الكلام عليه فيما سلف برقم (2793).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے، جبکہ اس سند کے راوی ثقہ ہیں سوائے ابن عمر بن ابی سلمہ کے جو "مجہول" ہے۔ اس پر مکمل بحث نمبر (2793) کے تحت دیکھیں۔
وأخرجه أبو داود (3119) عن موسى بن إسماعيل، بهذا الإسناد مختصرًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (3119) نے موسیٰ بن اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ مختصراً روایت کیا ہے۔
وسلف برقم (6787) محمد بن صالح بن هانئ عن السري بن خزيمة، ليس فيه ابن عمر بن أبي سلمة، وجعل قصة الدعاء فيه من حديث أم سلمة عن أبي سلمة.
📖 حوالہ / مصدر: نمبر (6787) پر محمد بن صالح بن ہانی عن السری بن خزیمہ کی روایت گزر چکی ہے، جس میں ابن عمر بن ابی سلمہ کا واسطہ نہیں ہے، اور اس میں دعا کا قصہ ام سلمہ عن ابی سلمہ کی حدیث سے بیان کیا گیا ہے۔
(3) كذا قال المصنّف، ولم نقف فيما بين أيدينا من المصادر التي خرجت هذا الحديث من سمَّاه، ولا يعرف لعمر بن أبي سلمة ابنٌ اسمه سعيد، ولا ذكرَ له في كتب التراجم، وربما كان سعيدٌ محرفًا عن محمد، ومحمد بن عمر هذا روى عن أبيه غير هذا الحديث، وهو مجهول الحال.
🔍 فنی نکتہ / علّت: مصنف نے ایسے ہی (سعید) کہا ہے، لیکن ہمارے سامنے موجود مصادر میں کسی نے اس کا نام ذکر نہیں کیا۔ عمر بن ابی سلمہ کا "سعید" نامی کوئی بیٹا معروف نہیں اور نہ کتبِ تراجم میں اس کا ذکر ہے۔ شاید "سعید" دراصل "محمد" سے محرف ہو گیا ہو، کیونکہ محمد بن عمر نے اپنے والد سے اس کے علاوہ بھی حدیث روایت کی ہے، اور وہ بھی "مجہول الحال" ہے۔