المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1066. إنفاق أبى بكر وعمر على مارية
سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا پر سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے خرچ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6994
سمعت أبا العبّاس محمد بن يعقوب يقول: سمعتُ العبّاس بن محمد الدُّوري، يقول: سمعتُ يحيى بن معين يذكر حديث ثابت عن أنس: أنَّ أم إبراهيم كانت تتهم برجل، فأمر النَّبيّ ﷺ بِضَرْبِ عُنقه، فنظروا فإذا هو مجبوبٌ. قلت ليحيى: مَن حدَّثك؟ قال: عفَّانُ، عن حماد بن سَلَمة (1) .
عباس بن محمد دوری فرماتے ہیں: یحیی بن معین نے سیدنا ثابت بن انس رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بیان کی ” ابراہیم بن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ پر ایک آدمی کے حوالے سے الزام لگایا گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کے قتل کا حکم دے دیا تھا۔ جب لوگوں نے اسے دیکھا تو وہ مجبوب (کٹے ہوئے آلہ تناسل والا) تھا۔ (عباس بن محمد دوری کہتے ہیں) میں نے یحیی بن معین سے پوچھا، تمہیں یہ بات کس نے بتائی؟ انہوں نے کہا: حماد بن سلمہ نے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6994]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6994 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 21/ (13989)، ومسلم (2771) من طريق عفان بن مسلم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (21/ 13989) اور مسلم (2771) نے عفان بن مسلم کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
🔍 فنی نکتہ / علّت: حاکم کا اسے (مستدرک میں) لانا ان کا "ذہول" (بھول/غفلت) ہے (کیونکہ یہ تو صحیح مسلم میں موجود ہے)۔