🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1077. إجازة زينب لزوجها أبى العاص
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا اپنے شوہر سیدنا ابو العاص رضی اللہ عنہ کو امان دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7014
حدثناه أبو علي الحافظ، أخبرنا أبو محمد بن صاعد، حدثنا عبد الله ابن شبيب، حدثنا أيوب بن سليمان بن بلال، حدثني أبو بكر بن أبي أُويس، عن سليمان، قال: قال يحيى بن سعيد وصالح بن كَيْسان، عن الزهري، عن أنس قال: لما أُسِرَ أبو العاص قالت زينب: إنّي قد أجرتُ أبا العاص، فقال النَّبيّ ﷺ:"قد أجَرْنا من أجرتِ زينب؛ إنه يُجيرُ على المسلمين أدناهم" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6842 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب ابوالعاص قیدی ہوا تو سیدہ زینب نے کہا: میں نے ابوالعاص کو پناہ دی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو زینب نے پناہ دی، اس کو ہم نے پناہ دے دی، کیونکہ مسلمانوں کی طرف سے ادنیٰ سے ادنیٰ شخص بھی کسی (کافر) کو پناہ دے سکتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7014]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7014 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف جدًّا من أجل عبد الله بن شبيب سليمان: هو ابن بلال المدني.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "عبد اللہ بن شبیب" کی وجہ سے انتہائی ضعیف (ضعیف جداً) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود (سلیمان) سے مراد "ابن بلال المدنی" ہیں۔
وأخرجه ابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (555) و (2974)، وابن المنذر في "الأوسط" (6264)، والطحاوي في "شرح المشكل" (1245)، والمحاملي في "الأمالي" (330 - رواية ابن البيع) - ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخه" 67/ 16 و 16 - 17 - من طريق عبد الله بن شبيب، بهذا الإسناد. ووقع خطأ في المطبوع من "أمالي المحاملي"، وكذا في "تاريخ دمشق"، فليصحح.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج ابن ابی عاصم نے "الآحاد والمثانی" (555 اور 2974)، ابن المنذر نے "الارسط" (6264)، طحاوی نے "شرح مشکل الآثار" (1245)، محاملی نے "الامالی" (330 - روایۃ ابن البیع) میں، اور انہی کے طریق سے ابن عساکر نے اپنی "تاریخ" (67/ 16 اور 16-17) میں عبد اللہ بن شبیب کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ کی ہے۔ 📌 اہم نکتہ: "امالی المحاملی" اور "تاریخ دمشق" کے مطبوعہ نسخوں میں (اس مقام پر) غلطی واقع ہوئی ہے، پس اس کی تصحیح کر لی جائے۔
وأخرجه الدُّولابي في "الذرية الطاهرة" (59) عن النضر بن سلمة المروزي، عن أيوب بن سليمان بن بلال، عن أبي بكر، عن سليمان بن بلال، عن صالح بن كيسان وحده، به. والنضر لا يفرح به، متهم.
📖 حوالہ / مصدر: اسے دولابی نے "الذریۃ الطاہرۃ" (59) میں نضر بن سلمہ مروزی سے، وہ ایوب بن سلیمان بن بلال سے، وہ ابو بکر سے، وہ سلیمان بن بلال سے، اور وہ تنہا صالح بن کیسان سے روایت کرتے ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی "نضر" پر کوئی خوشی نہیں کی جا سکتی (قابلِ اعتبار نہیں)، وہ "متہم" (جس پر جھوٹ وغیرہ کا الزام ہو) ہے۔
وانظر ما قبله وما بعده.
📝 نوٹ / توضیح: اس سے ماقبل اور مابعد کی روایات ملاحظہ کریں۔