المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1087. ذكر شجاعة صفية يوم الخندق
غزوۂ خندق کے دن سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی شجاعت کا بیان
حدیث نمبر: 7038
حدثنا أبو عبد الله الأصفهاني، حدثنا الحسن بن الجهم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر قال: وصفية بنت عبد المطلب بن هاشم وأمها هالة بنت وهيب بن عبد مناف بن زُهرة بن كلاب، وهي أختُ حمزة بن عبد المطلب لأمه، كان تزوَّجها في الجاهلية الحارثُ بن حرب بن أمية بن عبد شمس، فولدت له صَفيًّا (1) ، ثم خَلَفَ عليها العوام بن خُوَيلد بن أسد، فولدت له الزبير والسائب وعبد الكعبة، وأسلمت وبايعت رسول الله ﷺ، وهاجرت إلى المدينة، وعاشت بعده إلى خلافة عمر بن الخطاب، ورَوَت عن رسول الله ﷺ.
محمد بن عمر نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے ” صفیہ بنت عبدالمطلب بن ہاشم “ ان کی والدہ ” ہالہ بنت وہیب بن عبد مناف بن زہرہ بن کلاب “ ہیں۔ آپ سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی اخیافی (ماں شریک) بہن ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں انہوں نے حارث بن حرب بن امیہ بن عبدشمس “ سے نکاح کیا تھا، ان کے ہاں ” صفی “ (بیٹا) پیدا ہوا، اس کے بعد عوام بن خویلد بن اسید سے ان کا نکاح ہوا، یہاں زبیر، سائب اور عبدالکعبہ (تین بچے) پیدا ہوئے، سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا اسلام لائیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی، اور مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی، اس کے بعد سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت تک زندہ رہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث بھی روایت کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7038]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7038 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) الخبر في طبقات ابن سعد 10/ 41، وفيه: فولدت له صفيًا رجلًا، يعني ذكرًا. وتحرّف "صفيًا" في (ص) إلى: صبيًا.
📖 حوالہ / مصدر: یہ خبر طبقات ابن سعد 10/ 41 میں ہے، اور اس میں الفاظ ہیں: "فولدت له صفيًا رجلًا" (اس کے ہاں صفی پیدا ہوا جو مرد تھا)۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ص) میں لفظ "صفیًا" تحریف ہو کر "صبیًا" (بچہ) بن گیا ہے۔