🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1093. نعم الإدام الخل
سرکہ بہترین سالن ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7049
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدوري، حدثنا الحسن بن بشر الهَمْداني، حدثنا سَعْدان بن الوليد بيَّاع السَّابِري، عن عطاء، عن ابن عباس، عن أم هانئ بنت أبي طالب قالت: قال لي رسول الله ﷺ:"هل عندكِ طعامٌ آكلُه؟" وكان جائعًا، فقلتُ: إنَّ عندي لكسرًا يابسةً، وإِنِّي لأستحيي أن أُقرِّبَها إليك، فقال:"هلُمِّيها"، فكسرتها ونشرت عليها الملح، فقال:"هل من إدام؟" فقلتُ: يا رسول الله، ما عندي إلا شيءٌ من خَلٍّ، قال:"هلُمِّيه"، فلما جئته به صبه على طعامه فأكل منه، ثم حَمِدَ الله تعالى، ثم قال:"نِعمَ الإدام الخلُّ يا أم هانئ، لا يُقفِرُ بيتٌ فيه خل" (1) . وقد روى عبد الله بن عمر بن الخطاب عن أمِّ هانئ:
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ (وہ فرماتی ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فریایا: تمہارے پاس کوئی کھانے کی چیز ہے، (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت بھوک لگی ہوئی تھی) میں نے کہا: میرے پاس خشک گوشت ہے، اور یہ آپ کو پیش کرتے ہوئے مجھے تو شرم آتی ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لے آؤ، میں نے اس کو توڑا، اس پر نمک چھڑکا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کوئی سالن وغیرہ نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس اس وقت سرکہ کے سوا کوئی چیز نہیں ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہی لے آؤ، میں نے سرکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کر دیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سرکہ کھانے پر انڈیلا، اس کو کھایا اور اللہ کا شکر ادا کیا، پھر فرمایا: اے ام ہانی، سرکہ بہت اچھا سالن ہوتا ہے، وہ گھر کبھی برباد نہیں ہوتا جس گھر میں سرکہ موجود ہو۔ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما نے بھی روایت کی ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7049]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7049 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف الحسن بن بشر ضعيف، وشيخه سعدان بن الوليد لم نقف له على ترجمة، فهو مجهول لا يعرف.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: حسن بن بشر "ضعیف" ہیں، اور ان کے شیخ سعدان بن ولید کے حالاتِ زندگی (ترجمہ) ہمیں نہیں مل سکے، پس وہ "مجہول" ہیں جنہیں پہچانا نہیں گیا۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (5545) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد. وقرن بالحاكم أبا سعيد بن أبي عمرو، وجعله من مسند ابن عبّاس يحكي فيه قصة أم هانئ.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "شعب الایمان" (5545) میں ابوعبداللہ حاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: حاکم کے ساتھ ابوسعید بن ابی عمرو کو بھی شریکِ روایت کیا گیا ہے، اور اسے ابن عباسؓ کی مسند میں شمار کیا گیا ہے جس میں وہ ام ہانیؓ کا قصہ بیان کرتے ہیں۔
وأخرجه كذلك الطبراني في "الأوسط" بإثر (6934)، وفي "الصغير" (951) عن محمد بن الحسين بن البستنبان، عن الحسن بن بشر، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسی طرح اسے طبرانی نے "الاوسط" میں روایت نمبر (6934) کے بعد، اور "الصغیر" (951) میں محمد بن حسین بن بستنبان کے واسطے سے حسن بن بشر سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه مختصرًا أبو عوانة في "صحيحه" (8381)، والطبراني في "الكبير" (11338) من طريق طلحة بن عمرو، عن عطاء، عن ابن عبّاس مرفوعًا: "نعم الإدام الخل". وضعف أبو عوانة طلحة بن عمرو.
🧾 تفصیلِ روایت: اسے ابوعوانہ نے اپنی "صحیح" (8381) اور طبرانی نے "الکبیر" (11338) میں طلحہ بن عمرو عن عطاء عن ابن عباس کے طریق سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ: "سرکہ بہترین سالن ہے"۔ ⚖️ درجۂ حدیث: ابوعوانہ نے اس کی سند میں موجود راوی طلحہ بن عمرو کو ضعیف قرار دیا ہے۔
وأخرجه الترمذي في "الجامع" (1841)، وفي "العلل الكبير" (569) عن أبي حمزة ثابت الثمالي، عن الشعبي، عن أم هانئ. وقال حسن غريب من هذا الوجه، لا نعرفه من حديث أم هانئ إلا من هذا الوجه! وأبو حمزة الثمالي اسمه ثابت بن أبي صفية، وأم هانئ ماتت بعد علي بن أبي طالب بزمان، وسألت محمدًا عن هذا الحديث، فقال: لا أعرفُ للشعبي سماعًا من أم هانئ، فقلت: أبو حمزة كيف هو عندك؟ فقال: أحمد بن حنبل تكلم فيه، وهو عندي مقارب الحديث. قلنا: كذا قال البخاري في الثمالي وغيره من أهل الحديث قد اتفقوا على ضعفه وبعضهم عده في المتروكين. وقوله: "نعم الإدام الخلُّ" صحَّ من حديث عائشة ومن حديث جابر، كلاهما عند مسلم برقمي (2051) و (2052)، وفي حديث جابر أنَّ ذلك وقع عند إحدى زوجات النَّبيّ ﷺ، وليس عند أم هانئ.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی نے "الجامع" (1841) اور "العلل الکبیر" (569) میں ابوحمزہ ثابت الثمالی (ثابت بن ابی صفیہ) عن الشعبی عن ام ہانیؓ کے طریق سے روایت کر کے اسے اس وجہ سے "حسن غریب" کہا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام بخاری کے مطابق شعبی کا ام ہانیؓ سے سماع ثابت نہیں ہے، نیز ابوحمزہ ثمالی جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف بلکہ بعض کے ہاں متروک ہیں۔ 📌 اہم نکتہ: "سرکہ بہترین سالن ہے" والی روایت اصلاً صحیح مسلم (2051، 2052) میں عائشہؓ اور جابرؓ سے مروی ہے، اور جابرؓ کی روایت کے مطابق یہ واقعہ ازواجِ مطہرات میں سے کسی کے ہاں پیش آیا تھا نہ کہ ام ہانیؓ کے گھر۔