المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1096. ومن نساء قريش اللاتي روين عن رسول الله - صلى الله عليه وآله وسلم - فاطمة بنت قيس بن وهب بن ثعلبة بن وائل بن عمرو بن شيبان بن محارب بن فهر : حدثني بصحة هذا النسب أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه ، ثنا إبراهيم بن إسحاق الحربي ، ثنا مصعب بن عبد الله الزبيري .
قریش کی وہ خواتین جو رسول اللہ ﷺ سے احادیث روایت کرنے والی ہیں، ان میں سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا بیان
حدیث نمبر: 7053
حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجهم بن مَصْقَلة الأصبهاني، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر قال: كانت أروى بنت عبد المطلب قد أسلمت، فحدثني سلمة بن بُخْت، عن عميرة (1) بنت عُبيد الله بن كعب، عن أم درَّة (2) ، عن بَرَّةَ بنت أبي تجراة قالت: كانت قريش لا تُنكر أن تُصلِّي الضُّحى، إنما تُنكِرُ الوقت. قلت: الحديث كما مرَّ ذكره، فإنه مُعاد هاهنا، فتأمل. قال الحاكم:
هذا حديث رواه المدنيون بهذا الإسناد، والواقدي مُقدَّم في هذا العلم قد حكم به، وقد أنكر هشام بن عُرْوة أن يكون قد أسلم من بنات عبد المطلب غيرُ صفيّة أم الزبير (3) ، والله أعلم. ومن نساء قريشٍ اللاتي رَوَينَ عن رسول الله ﷺ فاطمة بنت قيس بن وهب (4) بن ثعلبة بن وائل بن عمرو بن شَيْبان بن مُحارِب بن فهر.
هذا حديث رواه المدنيون بهذا الإسناد، والواقدي مُقدَّم في هذا العلم قد حكم به، وقد أنكر هشام بن عُرْوة أن يكون قد أسلم من بنات عبد المطلب غيرُ صفيّة أم الزبير (3) ، والله أعلم. ومن نساء قريشٍ اللاتي رَوَينَ عن رسول الله ﷺ فاطمة بنت قيس بن وهب (4) بن ثعلبة بن وائل بن عمرو بن شَيْبان بن مُحارِب بن فهر.
محمد بن عمر فرماتے ہیں: سیدنا ارویٰ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا اسلام لائی تھیں۔ برہ بنت ابی تجراۃ بیان کرتی ہیں کہ قریش نماز چاشت کا انکار نہیں کرتے تھے بلکہ وہ وقت کا انکار کرتے تھے۔ میں نے کہا: اس حدیث کا ذکر پہلے گزر چکا ہے اس لئے اس کو یہاں دوبارہ بیان نہیں کیا۔ امام حاکم کہتے ہیں: اس حدیث کو مدنی رایوں نے اس اسناد کے ہمراہ روایت کیا ہے، جبکہ اس علم میں واقدی مقدم ہیں، انہوں نے اس کو صحیح قرار دیا ہے جبکہ ہشام بن عروہ کا موقف یہ ہے کہ سیدنا عبدالمطلب کی بیٹیوں میں سے صرف سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا (جو کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں) اسلام لائیں تھیں۔ ان کے علاوہ اور کوئی بیٹی مسلمان نہیں ہوئی تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7053]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7053 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرّف في النسخ إلى: غيرة، والمثبت من مكرره السالف برقم (7041)، وإسناده ضعيف.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "غيرة" ہو گیا تھا، جسے ہم نے سابقہ روایت نمبر (7041) کی روشنی میں درست کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے۔
(2) انظر التعليق عليها عند مكرره المذكور.
📖 حوالہ / مصدر: اس پر ہمارا تعلیق (نوٹ) مکرر روایت کے تحت دیکھیں۔
(3) وصله البخاري في "تاريخه الأوسط" (225)، وسلف قريبًا برقم (7036) مسندًا لأبيه عروة بن الزبير من طريق آخر.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے "التاریخ الاوسط" (225) میں موصولاً بیان کیا ہے، اور یہ پیچھے نمبر (7036) پر عروہ بن زبیرؓ کی مسند میں دوسرے طریق سے گزر چکا ہے۔
(4) تحرَّف في (ز) و (م) و (ص) إلى: وهيب وأثبتناه على الصواب من (ب)، وهو الموانق لما في "طبقات ابن سعد" 10/ 259، و "الثقات" لابن حبان 3/ 336، وكما في مصادر ترجمة أخيها الضحاك بن قيس.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ز)، (م) اور (ص) میں یہ نام تحریف ہو کر "وہیب" ہو گیا تھا، جسے ہم نے (ب) کے مطابق "وہب" درست کیا ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: یہی نام طبقات ابن سعد 10/ 259، الثقات لابن حبان 3/ 336 اور ان کے بھائی ضحاک بن قیس کے حالاتِ زندگی کے مصادر کے موافق ہے۔