المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1102. ذكر أم عبد الله ليلى بنت أبى حثمة القرشية العدوية - رضي الله عنها -
سیدہ اُمِّ عبداللہ لیلیٰ بنت ابی حثمہ قرشیہ عدویہ رضی اللہ عنہا کا بیان
حدیث نمبر: 7066
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشَّعراني، حدَّثنا جَدِّي، حدَّثنا إسماعيل بن أبي أوَيس، حدثني سليمان بن بلال، عن موسى بن عُبيدة، عن عبد المجيد بن سهيل الزُّهْري، عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، عن الشِّفاء ابنةِ عبد الله قالت: جئتُ يومًا حتى دخلتُ على النبيِّ ﷺ فسألتُه وشكوتُ إليه، فجعل يعتِذرُ إليَّ، وجعلتُ ألومُه، قالت: ثم حانت الصلاةُ الأولى فدخلتُ بيت ابنتي، وهي عند شُرَحْبيل ابن حَسَنة، فوجدتُ زوجَها في البيت، فجعلتُ ألومُه، وقلت: حضرتِ الصلاةُ وأنت هاهنا؟! فقال: يا عمَّةُ، لا تَلُوميني؛ كان لي ثوبان استعار أحدَهما النبيُّ ﷺ [فقلتُ] : أنا ألومُه وهذا شأنُه! فقال شُرَحبيل: إنما كان في أحدِهما دِرعٌ (4) فَرَقَعناه (5) . ذكر أمِّ عبد الله ليلى بنت أبي حَثْمة القُرشية العَدَوية ﵂
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6892 - حذفه الذهبي من التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6892 - حذفه الذهبي من التلخيص
سیدنا شفاء بنت عبداللہ فرماتی ہیں: میں ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی، میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا، اور آپ کی بارگاہ میں (اپنی بیماری کی) شکایت پیش کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لئے عذر بتاتے رہے اور میں مسلسل شکایت کرتی رہی، آپ فرماتی ہیں: پھر نماز کا وقت ہو گیا، میں اپنی بیٹی کے گھر چلی گئی، وہ اس وقت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھی، اس وقت ان کے شوہر گھر میں تھے، میں اس کو ملامت کرنے لگ گئی کہ نماز کا وقت ہو گیا اور تم ابھی گھر میں ہو، اس نے کہا: پھوپھی جان مجھے ملامت مت کیجئے، کیونکہ میرے پاس صرف دو ہی کپڑے ہیں، ان میں سے بھی ایک کپڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ادھار لے لیا ہے، میں نے کہا: میرے ماں باپ قربان ہو جائیں، میں بلاوجہ ان کو شکایت کرتی رہی، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس کپڑے ہی نہیں تھے (تو وہ جماعت کے لئے کیسے جاتے) سیدنا شرحبیل بن حسنہ نے کہا: ان میں سے ایک گھر میں پہننے کی بڑی چادر تھی (جو پھٹی ہوئی تھی اس وجہ سے ہم نے) اسے پیوند لگائے ہوئے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7066]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7066 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(4) كذا في النسخ: كان في أحدهما، وفي "شعب الإيمان": إنما كان أحدُهما ثوبَ درعٍ، فرقعنا جَيْبَه.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (4) نسخوں میں اسی طرح "كَانَ فِي أَحَدِهِمَا" ہے، جبکہ "شعب الایمان" میں ہے: "إِنَّمَا كَانَ أَحَدُهُمَا ثَوْبَ دِرْعٍ، فَرَقَعْنَا جَيْبَهُ" (ان دونوں میں سے ایک قمیض کا کپڑا تھا، تو ہم نے اس کے گریبان کو پیوند لگا دیا)۔
(5) إسناده ضعيف من أجل موسى بن عبيدة: وهو الرَّبَذي.
⚖️ درجۂ حدیث: (5) اس کی سند موسیٰ بن عبیدہ کی وجہ سے ضعیف ہے، اور وہ "الرَبَذی" ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (3219) من طريق أبي زرعة الدمشقي، عن إسماعيل بن أبي أويس، بهذا الإسناد. وأخرجه بنحوه ابنُ أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (636) و (3176)، والطبراني في "الكبير" 24/ (789) و (795)، وابن السني في "القناعة" (45)، وأبوالشيخ في "أخلاق النبي ﷺ (159)، وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (3728) و (7707) من طريق عبد الوهاب بن الضحاك، عن إسماعيل بن عياش، عن الأوزاعي، عن الزهري، عن أبي سلمة به. وإسناده تالف، عبد الوهاب بن الضحاك متهم لا يفرح به.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے بیہقی نے "شعب الایمان" (3219) میں ابو زرعہ الدمشقی کے طریق سے، اسماعیل بن ابی اویس سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اور اسی کی مثل ابن ابی عاصم نے "الآحاد والمثانی" (636 و 3176)، طبرانی نے "الکبیر" (789/24 و 795)، ابن السنی نے "القناعۃ" (45)، ابو الشیخ نے "اخلاق النبی ﷺ" (159)، اور ابو نعیم نے "معرفۃ الصحابہ" (3728 و 7707) میں عبدالوہاب بن الضحاک کے طریق سے، اسماعیل بن عیاش سے، انہوں نے اوزاعی سے، انہوں نے زہری سے اور انہوں نے ابو سلمہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اور اس کی سند "تالف" (برباد/سخت ضعیف) ہے؛ عبدالوہاب بن الضحاک "مُتَّہَم" (جھوٹ سے متہم) ہیں، ان کی روایت پر خوش نہیں ہوا جا سکتا (یعنی قابل اعتبار نہیں)۔