🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1113. ذكر فاطمة بنت المجلل القرشية أم جميل - رضي الله عنها -
سیدہ فاطمہ بنت مجلل قرشیہ، امِّ جمیل رضی اللہ عنہا کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7083
أخبرنا أبو الحسين محمد بن أحمد بن تَميم الخيَّاط ببغداد، حدَّثنا أبو قِلابة، حدَّثنا أبو عاصم، عن عثمان بن الأسود (3) ، عن ابن أبي مُليكة: أنَّ خالتَه فاطمة بنت أبي حُبيش أتت عائشةَ، فقالت: إنِّي أخافُ أن أكونَ من أهل النار، لم أُصلِّ منذ نحوٍ من سنتين، فسألتُ النبيَّ ﷺ، فقال:"لِتدَعِ الصلاةَ في كلِّ شهرٍ أيامَ قُروئها، ثم تتوضأ لكلِّ صلاة، فإنما هو عِرقٌ" (4) . ذكرُ فاطمةَ بنت المُجَلِّل القُرشية أمِّ جَميل ﵂
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6908 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں: ان کی خالہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کی: مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں میں دوزخی نہ ہو جاؤں، میں تقریباً دو سالوں سے نماز نہیں پڑھ سکی، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر مہینے میں اپنے حیض کے دنوں کے برابر نماز کا ناغہ کیا کرو اور باقی دنوں میں ہر نماز (کے وقت) کے لئے تازہ وضو کر کے نماز پڑھ لیا کرو، یہ (حیض نہیں ہے بلکہ یہ) بیماری کی وجہ سے خون آتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7083]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7083 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) كذا وقع في النسخ الخطية: ابن الأسود، وهو خطأ أو تحريف، فالحديث لا يعرف إلا بعثمان بن سعد، وقد جاء على الصواب عند المصنف في مكرره السالف برقم (633)، فقد رواه بالإسناد نفسه.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ "ابن الاسود" واقع ہوا ہے جو کہ غلطی یا تحریف ہے، کیونکہ یہ حدیث صرف "عثمان بن سعد" کے واسطے سے جانی جاتی ہے۔ مصنف (امام احمد) کے ہاں گزشتہ مکرر حدیث نمبر (633) میں یہ نام صحیح طور پر مذکور ہے اور انہوں نے اسے اسی سند سے روایت کیا ہے۔
(4) إسناد ضعيف من أجل عثمان بن سعد - وهو القرشي - كما سلف بيانه عند مكرره (633).
⚖️ درجۂ حدیث: عثمان بن سعد (القرشی) کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے، جیسا کہ مکرر حدیث (633) کے تحت اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔
أبو قلابة: هو عبد الملك بن محمد بن عبد الله الرقاشي، وأبو عاصم: هو الضحاك بن مخلد النبيل، وابن أبي مليكة: هو عبد الله بن عبيد الله.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (راویوں کی تعیین): ابو قلابہ سے مراد عبدالملک بن محمد بن عبداللہ الرقاشی ہیں، ابو عاصم سے مراد الضحاک بن مخلد النبیل ہیں، اور ابن ابی ملیکہ سے مراد عبداللہ بن عبیداللہ ہیں۔