🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1141. ذكر بريرة مولاة عائشة - رضي الله عنها -
سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا بیان، جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی آزاد کردہ باندی تھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7125
فحدَّثنا بصحَّة ما ذكره أبو عبد الله الواقدي، أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكير، عن عيسى بن عبد الله التميمي، عن محمد بن المنكدِر، عن أُميمة خالةِ فاطمةَ بنتِ رسول الله ﷺ قال: سمعتُها تقول: بايَعْنا رسولَ الله ﷺ، فأخذَ علينا أن لا نُشرِكَ بالله شيئًا. قال: ثم ذكر نحوَ حديثِ ابن إسحاق عن ابن المنكدر (2) . ذكرُ بَرِيرةَ مولاةِ عائشةَ ﵂ قد اتَّفق الشيخانِ ﵄ على حديث يزيد بن رُومان عن عُرْوة عن بَرِيرةَ ﵂ أنها قالت: فيَّ ثلاثٌ من السُّنة: تُصُدِّقَ عليَّ بلحم، فأهديتُ إلى عائشة … الحديث، وكان عليَّ تسعُ أواقٍ، فقالت عائشةُ: إن شاء مواليكِ عَدَدتُها إليهم، في ذِكرِ الوَلاء بطوله (3) . [وليلي مولاة عائشة ﵂]
0 [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7125]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7125 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده حسن في المتابعات.
⚖️ درجۂ حدیث: متابعات (تائیدی روایات) میں اس کی سند "حسن" ہے۔
وأخرجه الطبري في "تفسيره" 28/ 80 عن محمد بن العلاء، عن يونس بن بكير، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام طبری نے اپنی "تفسیر" 28/ 80 میں محمد بن علاء از یونس بن بکیر کی سند سے اسی اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(3) وهم المصنفُ ﵀ في عزوه للشيخين من هذا الطريق، وهو عند النسائي (4998) عن عمرو بن علي، عن عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي، عن عبيد الله بن عمر، عن يزيد ابن رومان، عن عروة، عن بريرة، أنها قالت: كان فيَّ ثلاث من السنة تصدق علي بلحم، فأهديته لعائشة، فدخل رسول الله ﷺ فقال: "ما هذا اللحم؟ " فقالت: لحم تُصدّق به على بريرة فأهدته لنا، فقال: "هو على بريرة صدقة ولنا هدية"، وكاتبتُ على تسع أواق، فقالت عائشة: إن شاء مواليك عددتُ لهم ثمنك عدةً واحدةً، فقالت: إنهم يقولون إلا أن تشترطي لهم الولاء، فذكرت ذلك للنبيِّ ﷺ، فقال: "اشتريها واشترطي لهم، فإنما الولاءُ لمن أعتق" قالت: وأعتقني فكان لي الخيار. ونقل المزي في "تحفة الأشراف" (15784): أنَّ النسائي قال عقبه: حديث يزيد بن رومان خطأ. يعني أن الصواب حديث عروة عن عائشة، لا عن بريرة.
🔍 فنی نکتہ / علّت: مصنف (رحمہ اللہ) سے اس روایت کو اس طریق سے شیخین (بخاری و مسلم) کی طرف منسوب کرنے میں "وہم" (غلطی) ہوئی ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت سنن نسائی (4998) میں عمرو بن علی از عبد الوہاب ثقفی از عبید اللہ بن عمر از یزید بن رومان از عروہ از بريرة (رضی اللہ عنہا) کی سند سے مروی ہے کہ میرے بارے میں تین سنتیں طے ہوئیں: مجھے گوشت صدقہ دیا گیا جو میں نے عائشہ (رضی اللہ عنہا) کو ہدیہ کر دیا، نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا یہ گوشت کیسا ہے؟ عرض کیا گیا بریرہ کو صدقہ ملا تھا جو انہوں نے ہمیں ہدیہ کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: "یہ بریرہ کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے"۔ اور میں نے نو اوقیہ پر مکاتبت کی تھی۔۔۔ (مکمل قصہ)۔ 📌 اہم نکتہ: امام مزی نے "تحفۃ الاشراف" (15784) میں نقل کیا ہے کہ امام نسائی نے اس کے بعد فرمایا: "یزید بن رومان کی یہ روایت خطا ہے"۔ یعنی درست یہ ہے کہ یہ روایت عروہ عن عائشہ ہے، نہ کہ عروہ عن بریرہ۔
وكذلك رواه وهيبُ بن خالد على الصواب فخالف الثقفيَّ عند مسلم (1504) (13)، والنسائي (5616)، فرواه عن عبيد الله بن عمر، عن يزيد بن رومان، عن عروة، عن عائشة مختصرًا، فجعله من حديث عائشة. وكذلك رواه الناس من غير طريق عروة.
🔍 فنی نکتہ / علّت: اسی طرح وھیب بن خالد نے اسے "صواب" (درست) طریقے سے روایت کرتے ہوئے عبد الوہاب ثقفی کی مخالفت کی ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: یہ صحیح مسلم (1504) (13) اور نسائی (5616) میں عبید اللہ بن عمر از یزید بن رومان از عروہ از عائشہ (رضی اللہ عنہا) کی سند سے مختصراً مروی ہے، انہوں نے اسے عائشہ کی حدیث قرار دیا ہے۔ دیگر لوگوں نے بھی اسے عروہ کے علاوہ دیگر طرق سے روایت کیا ہے۔
فأخرجه أحمد 40/ (24187)، والبخاري (2578)، ومسلم (1504) (10)، وابن حبان (4269) و (5115) من طريق عبد الرحمن بن القاسم، عن أبيه، عن عائشة، قالت: كان في بريرة ثلاث قضيّات: أراد أهلها أن يبيعوها ويشترطوا ولاءها، فذكرت ذلك للنبي ﷺ، فقال: "اشتريها وأعتقيها، فإنَّ الولاء لمن أعتق" قالت: وعتقت، فخيرها رسول الله ﷺ فاختارت نفسها، قالت: وكان الناس يتصدقون عليها وتهدي لنا، فذكرت ذلك للنبي ﷺ، فقال: "هو عليها صدقة، وهو لكم هدية، فكلوه".
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 40/ (24187)، بخاری (2578)، مسلم (1504) (10) اور ابن حبان (4269، 5115) نے عبد الرحمن بن قاسم از قاسم بن محمد از عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے طریق سے روایت کیا ہے کہ بریرہ کے معاملے میں تین فیصلے ہوئے۔۔۔ (حدیث کا متن)۔
وبنحوه أخرجه أحمد 42/ (25452) و (25468)، والبخاري (5097)، و (5279)، و (5430)، ومسلم (1504) (14)، وابن ماجه (2076)، والنسائي (5611)، وابن حبان (5116) من غير طريقٍ عن القاسم، عن عائشة.
📖 حوالہ / مصدر: اسی طرح اسے امام احمد 42/ (25452، 25468)، بخاری (5097، 5279، 5430)، مسلم (1504) (14)، ابن ماجہ (2076)، نسائی (5611) اور ابن حبان (5116) نے قاسم کے علاوہ دیگر طرق سے حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے روایت کیا ہے۔
ورواه مختصرًا الأسودُ عن عائشةَ عند أحمد (25426)، والبخاري (1493)، وغيرهما.
📖 حوالہ / مصدر: امام اسود نے اسے حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے مختصراً روایت کیا ہے جو مسند احمد (25426) اور صحیح بخاری (1493) وغیرہ میں موجود ہے۔