علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
4. لا يقبل الله صلاة إمام يحكم بغير ما أنزل الله
اللہ اس امام کی نماز قبول نہیں فرماتا جو نازل کردہ احکامات کے خلاف فیصلہ کرے
حدیث نمبر: 7184
أخبرني أبو النَّضر الفقيه ومحمد بن الحسن الشامي قالا: حدثنا الحسن بن حمّاد الكوفي، حدثنا عبد الله بن محمد العَدَوي قال: سمعتُ عمرَ بن عبد العزيز على المنبر يقول: حدثني عُبادة بن عبد الله بن عُبَادة، عن طلحة بن عُبيد الله قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"ألا أيها الناسُ، لا يقبلُ اللهُ صلاةَ إِمَامٍ حَكَمَ بغيرِ ما أَنزل الله" (1) وذكر باقيَ الحديث (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7008 - سنده مظلم
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7008 - سنده مظلم
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اس حکمران کی نماز قبول نہیں کرتا جو قرآن و سنت کے خلاف فیصلے کرتا ہے (اس کے بعد انہوں نے باقی حدیث بھی بیان کی) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7184]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، الحسن بن حماد الكوفي لم نتبينه ونُسب عند الباغندي: الكريزي، وعبد الله بن محمد العدوي متَّهم كما قال الذهبي في "تلخيصه"، ولذا قال: سنده مظلم. وعبادة بن عبد الله بن عبادة لم نقف له على ترجمة، ووقع في إسناد الحديث عند العقيلي في "الضعفاء": عبادة بن عبادة بن عبد الله.»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7184 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف جدًّا، الحسن بن حماد الكوفي لم نتبينه ونُسب عند الباغندي: الكريزي، وعبد الله بن محمد العدوي متَّهم كما قال الذهبي في "تلخيصه"، ولذا قال: سنده مظلم. وعبادة بن عبد الله بن عبادة لم نقف له على ترجمة، ووقع في إسناد الحديث عند العقيلي في "الضعفاء": عبادة بن عبادة بن عبد الله.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند 'ضعیف جداً' ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: حسن بن حماد الکوفی کی شخصیت واضح نہیں ہو سکی، الباغندی نے انہیں 'الکریزی' کی نسبت دی ہے۔ عبد اللہ بن محمد العدوی 'متہم' (جس پر جھوٹ کی تہمت ہو) ہیں جیسا کہ ذہبی نے "التلخیص" میں کہا، اسی لیے انہوں نے اس سند کو 'تاریک' (مظلم) قرار دیا۔ عبادہ بن عبد اللہ بن عبادہ کے حالات زندگی نہیں مل سکے، اور عقیلی کے ہاں سند میں یہ نام 'عبادہ بن عبادہ بن عبد اللہ' درج ہے۔
وأخرجه الباغندي في "مسند عمر بن عبد العزيز" (87)، والعقيلي في "الضعفاء الكبير" (840) من طريق يونس بن موسى، عن الحسن بن حماد بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے الباغندی نے "مسند عمر بن عبدالعزیز" (87) میں اور عقیلی نے "الضعفاء الکبیر" (840) میں یونس بن موسیٰ عن حسن بن حماد کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(2) اقتصر الحاكم على أول الحديث ليستشهد به لأحكام الباب، ولم يسقه بتمامه، وبقية الحديث كما ورد في مصدري التخريج: "ولا يقبل الله صلاة بغير طهور، ولا صدقة من غلول"، وهذه التكملة قد صحَّتْ من حديث ابن عمر عند مسلم (224) وغيره، لذا قال العقيلي: آخر الحديث يعرف بغير هذا الإسناد، وأوله غير محفوظ.
📌 اہم نکتہ: امام حاکم نے باب کے احکام پر استدلال کے لیے حدیث کے صرف ابتدائی حصے پر اکتفا کیا اور اسے مکمل بیان نہیں کیا۔ حدیث کا بقیہ حصہ تخریج کے مآخذ میں یوں ہے: "اور اللہ طہارت کے بغیر نماز قبول نہیں کرتا اور نہ خیانت (غلول) کے مال سے صدقہ"۔ 📝 نوٹ / توضیح: یہ بقیہ حصہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے صحیح مسلم (224) وغیرہ میں 'صحیح' ثابت ہے۔ اسی لیے عقیلی نے کہا کہ اس حدیث کا آخری حصہ تو دیگر اسانید سے معروف ہے، لیکن اس کا ابتدائی حصہ (جو یہاں مذکور ہے) 'غیر محفوظ' ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7184 in Urdu