🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. الخصمان يقعدان بين يدي الحاكم
دونوں فریقین حاکم کے سامنے بیٹھیں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7213
أخبرني محمد بن علي (1) بن دُحَيم الشَّيباني، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا مالك بن إسماعيل النَّهْدي، حدثنا الأجلح، عن الشَّعبي، عن عبد الله بن الخليل، عن زيد بن أرقم: أنَّ عليًّا بعثه النبيُّ ﷺ إلى اليمن، فارتفع إليه ثلاثةٌ يتنازعون ولدًا، كلُّ واحد يَزعُمُ أنَّه ابنُه. قال: فخَلَا باثنين، فقال: أتَطيبانِ نَفْسًا لهذا الباقي بالولد؟ قالا: لا، وخَلَا باثنين، فقال لهما مثلَ ذلك، فقالا: لا، فقال: أُراكم شُركاءَ متشاكِسون (2) وأنا مُقرِعٌ بينكم، فأقرعَ بينهم فجعلَه لأحدِهم، وأغرَمَه ثُلُثَي الدِّيَة للباقين. قال: فذكر ذلك للنبي ﷺ، فضحك حتى بَدَتْ نَواجِذُه (3) . قد أعرض الشيخان ﵄ عن الأجلح بن عبد الله الكِندي أصلًا، وليس في رواياته بالمتروك، فإنَّ الذي يُنقَم عليه به مذهبُه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7037 - الأجلح ليس بالمتروك
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یمن کی جانب (قاضی بنا کر) بھیجا، آپ کی خدمت میں تین آدمیوں کا جھگڑا پیش کیا گیا۔ ایک بچے کے بارے میں تینوں کا دعویٰ تھا کہ وہ اس کا بیٹا ہے۔ آپ نے ان میں سے دو آدمیوں کو الگ کر کے پوچھا: کیا تم اس تیسرے آدمی کو سچا سمجھتے ہو؟ انہوں نے کہا: جی نہیں۔ آپ نے پھر (ان میں سے ایک آدمی لیا اور اس کے ساتھ تیسرے آدمی کو الگ کیا) ان سے بھی اسی طرح پوچھا، انہوں نے بھی انکار کر دیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم تینوں بدکردار شریک ہو، میں تمہارے درمیان قرعہ اندازی کروں گا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، جس کے نام قرعہ نکلا، بچہ اس کو دے دیا اور باقی دو دعویداروں کو اس سے دو تہائی دیت دلوائی۔ سیدنا زید بن ارقم فرماتے ہیں: اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں کیا گیا، آپ (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اس فیصلے پر خوش ہو کر) مسکرائے، اتنا مسکرائے کہ آپ کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اجلح بن عبداللہ کندی کی روایات نقل نہیں کی ہیں۔ حالانکہ ان کی روایات میں کوئی متروک راوی نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7213]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لاضطرابه، وقد سلف بيانه برقم (2865).»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لاضطرابه
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7213 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) جاء اسمه مقلوبًا في النسخ الخطية إلى: علي بن محمد، والتصويب من الأسانيد الأخرى عند المصنف.
📌 اہم نکتہ: قلمی نسخوں میں یہ نام الٹ کر "علی بن محمد" لکھ دیا گیا ہے، جبکہ مصنف کے ہاں دیگر اسناد کی روشنی میں درست نام کی تصحیح کر دی گئی ہے۔
(2) كذا في نسخنا الخطية، والجادة أن تكون منصوبة نعت منصوب للمفعول الثاني "شركاء".
📝 نوٹ / توضیح: ہمارے نسخوں میں یہ اسی طرح درج ہے، جبکہ قواعد کے مطابق اسے دوسرے مفعول "شرکاء" کی صفت ہونے کی بنا پر حالتِ نصب میں ہونا چاہیے تھا۔
(3) إسناده ضعيف لاضطرابه، وقد سلف بيانه برقم (2865).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "اضطراب" کی وجہ سے ضعیف ہے، جس کی تفصیل پہلے رقم (2865) کے تحت گزر چکی ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7213 in Urdu