🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. إذا أكل أحدكم طعاما فليقل بسم الله
جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو "بسم اللہ" کہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7260
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شُعبة، عن عمرو بن مُرَّة، قال: سمعتُ عبد الله بن سَلِمة (2) ، قال: دخلتُ على علي بن أبي طالب أنا ورجلانِ، رجلٌ منا ورجلٌ من بني أسد - أحسَبُ - فبعثهما وجهًا، فقال: إنكما عِلْجانِ فعالِجا عن دينكما، ثم دخل المَخرَجَ ثم خرج، فأخذ حَفْنةً من ماء فتمسَّحَ بها، ثم جاء فقرأ القرآنَ، فرآنا أنكرنا ذلك، فقال عليٌّ: كان رسولُ الله ﷺ يأتي الخلاءَ فيقضي الحاجةَ، ثم يخرجُ فيأكلُ معنا الخبزَ واللحمَ ويقرأُ القرآنَ، ولا يحجبُه - وربما قال: ولا يحجُزُه - عن قراءة القرآن شيءٌ سوى الجنابةِ، أو إلَّا الجنابةَ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7083 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن ابی سلمہ فرماتے ہیں: میں، ہمارے قبیلے کے دو آدمی اور ایک آدمی بنی اسد سے تعلق رکھنے والا ہم لوگ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو کسی علاقے کی جانب بھیجا، اور فرمایا: تم دونوں معالج ہو، ان کے دین کا علاج کرو، پھر آپ بیت الخلاء میں جا کر (قضائے حاجت کے بعد) واپس باہر آئے، آپ نے پانی کا ایک چلو بھرا، وہ ہاتھوں پر ملا، پھر آئے اور قرآن کریم کی تلاوت کرنے لگ گئے، یہ بات ہمیں بہت عجیب سی لگی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء میں تشریف لے جاتے، قضائے حاجت فرماتے، پھر نکل کر آتے اور ہمارے ساتھ روٹی کھاتے، گوشت کھاتے، اور قرآن کریم کی تلاوت کرتے، اور اس پر غلاف بھی نہ ہوتا، بعض روایات میں ہے کہ جنابت کے علاوہ اور کوئی چیز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاوت سے نہ روکتی تھی۔ (قرآن کریم کو چھوئے بغیر زبانی طور پر تلاوت کرنا ہو تو بغیر وضو کی جا سکتی ہے) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7260]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7260 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) وقع في نسخنا الخطية: عبد الله بن أبي سلمة، وهو خطأ.
📌 اہم نکتہ: ہمارے قلمی نسخوں میں "عبد اللہ بن ابی سلمہ" لکھا ہوا ہے، جو کہ غلط ہے۔
(3) إسناده حسن في المتابعات والشواهد من أجل عبد الله بن سلمة كما سلف بيانه برقم (548).
⚖️ درجۂ حدیث: متابعات اور شواہد کی بنیاد پر یہ سند "حسن" ہے؛ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کا حسن ہونا عبد اللہ بن سلمہ نامی راوی کی وجہ سے ہے، جیسا کہ رقم (548) کے تحت اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔
وهو في "مسند أحمد" 2 / (840).
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت "مسند احمد" 2/ (840) میں موجود ہے۔